گھر میں بلی کی بجائے کتا پالنے سے بچوں میں دمے کا خطرہ کم ہوتا ہے: تحقیق
دمہ بچوں میں پائے جانے والے سب سے عام دائمی امراض میں سے ایک سمجھا جاتا ہے
کینیڈا میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ گھر میں کتا پالنے سے بچوں میں دمہ کے مرض میں مبتلا ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں، تاہم اس بات کا اطلاق بلی پالنے پر نہیں ہوتا۔
مذکورہ نتیجے تک پہنچنے کے لیے کینیڈا میں محققین نے ایک ہزار بچوں کے گروپ پر مشتمل سیمپل کا بغور جائزے لے لیے ان گھروں سے مٹی کے نمونے جمع کیے جہاں یہ بچے اوائل عمری میں مقیم رہے تھے۔ بعد ازاں مٹی کے ان نمونوں کا تجزیہ ان تین عمومی الرجیز سے کیا گیا جو پالتو جانوروں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔
سانس کی پیماریوں سے متعلق یورپی انجمن کی کانفرنس میں پیش کی گئی تحقیق کے مطابق بچے جب پانچ سال کی عمر کو پہنچے تو ان کے پھیپھڑوں کی کارکردگی جانچنے اور یہ معلوم کرنے کے لیے کہ آیا وہ دمے میں مبتلا ہوئے ہیں یا نہیں، مختلف ٹیسٹ کیے گئے۔
اس کے علاوہ ان کے خون کے نمونے بھی لیے گئے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا کوئی جینیاتی عوامل ایسے ہیں جو ان میں دمے کے امکانات کو بڑھا سکتے ہیں۔
ٹورنٹو (کینیڈا) میں بچوں کے لیے مخصوص ہسپتال سے تعلق رکھنے والے محققین کے مطابق جن بچوں میں پالتو کتوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی الرجی کی قسم ایف ون پائی گئی ان کے اندر دمہ مبتلا ہونے کے امکانات 48 فیصد تک کم پائے گئے اور ان کے پھیپھڑوں کی کارکردگی بہتر رہی۔
یہ حیران کن نتیجہ ان بچوں میں بھی برقرار رہا جن میں ایسے جینیاتی عوامل موجود تھے جو دمے کے خطرے کو عمومی طور پر بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔
محققین کے مطابق اس کے برعکس جن بچوں میں پالتو بلی سے پیدا ہونے والی "فیل ڈی 1" نامی الرجی کی شکایت پائی گئی ان میں دمے سے بچاؤ جیسے حفاظتی اثرات کے شواہد نہیں ملے۔
طبی تحقیق سے متعلق "ہیلتھ ڈے" نامی ویب گاہ نے ٹورنٹو کے چلڈرن ہسپتال کے ڈاکٹر جیکب میکوی کے حوالے سے بتایا کہ تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کتوں سے منسلک الرجی پیدا کرنے والے عناصر سے متاثرہ شخص میں امکانی طور پر ’حساسیت‘ کا عمل رک سکتا ہے اور ناک کے اندر موجود جرثوموں کے توازن میں تبدیلی یا جسم کے مدافعتی نظام پر اثر انداز ہوتا ہے۔
دمہ بچوں میں پائے جانے والے عمومی امراض میں سب سے زیادہ لگنے والا مرض سمجھا جاتا ہے۔