"مصنوعی ذہانت کی ایپس خبروں کو بڑے پیمانے پر مسخ کر سکتی ہیں"
یورپی ریڈیو یونین اور برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق معروف مصنوعی ذہانت کی ایپلیکیشنز تقریباً نصف مواقع پر خبروں کا مواد مسخ کر دیتی ہیں۔
بین الاقوامی تحقیق میں تین ہزار جوابات کا تجزیہ کیا گیا جو صارفین کے سوالات کے ردعمل میں مصنوعی ذہانت کے اسسٹنٹس نے دیے، یہ وہ ایپس ہیں جو قدرتی زبان کے احکام کو سمجھ کر صارف کے کام مکمل کرنے کے لیے AI استعمال کرتی ہیں۔
تحقیق نے مصنوعی ذہانت کے اسسٹنٹس کو زیادہ سے زیادہ 14 زبانوں میں درستگی، ذرائع ، رائے اور حقائق کے درمیان تمیز کرنے کی صلاحیت کے اعتبار سے جانچا۔ ان ایپس میں چیٹ جی پی ٹی (Chat GPT)کو پائلٹ (Copilot) جیمینی (Gemini) اور پرپلیکسیٹی (Perplexity) شامل ہیں۔
تحقیق سے ظاہر ہوا کہ مطالعے میں شامل مصنوعی ذہانت کے جوابات میں سے 45فیصدمیں کم از کم ایک بڑا مسئلہ پایا گیا اور81فیصدجوابات میں کسی نہ کسی شکل کا مسئلہ موجود تھا۔
رائٹرز نے نتائج پر تبصرہ حاصل کرنے کے لیے کمپنیوں سے رابطے کیے۔
اوپن اے آئی (OpenAI) اور مائیکروسافٹ (Microsoft) نے پہلے کہا تھا کہ وہ ہیلوسینیشن کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جب مصنوعی ذہانت کا ماڈل غلط یا گمراہ کن معلومات پیدا کرتا ہے، جو عام طور پر ڈیٹا کی ناکافی مقدار جیسے عوامل کی وجہ سے ہوتا ہے۔
پرپلیکسیٹی (Perplexity) اپنے ویب سائٹ پر کہتی ہے کہ اس کےڈیپ سرچ موڈ میں حقیقت پسندی کے اعتبار سے 93 اعشاریہ 9 درستی حاصل ہے۔
ذرائع کی غلطیاں
تحقیق میں بتایا گیا کہ مصنوعی ذہانت کے اسسٹنٹس کے جوابات میں سے ایک تہائی میں ذرائع کے حوالے سے سنگین غلطیاں پائی گئیں، جیسے کہ حوالہ جات کا غائب ہونا، گمراہ کن ہونا یا غلط ہونا شامل ہے۔
تحقیق کے مطابق گوگل کے مصنوعی ذہانت کے اسسٹنٹ جیمینی (Gemini) کے تقریباً 72 جوابات میں ذرائع کے حوالے سے بڑے مسائل پائے گئے، جب کہ باقی تمام اسسٹنٹس میں یہ شرح 25سے کم تھی۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ مطالعے میں شامل تمام مصنوعی ذہانت کے اسسٹنٹس کے جوابات میں سے 20میں درستگی کے مسائل پائے گئے، جن میں پرانی یا غیر اپ ڈیٹ شدہ معلومات شامل تھیں۔
تحقیق میں دیے گئے مثالوں کے مطابق جیمینی نے ایک بار استعمال ہونے والی ای-سگریٹ کے قانون میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں غلط معلومات دیں، جبکہ چیٹ جی پی ٹی نے بتایا کہ پوپ فرانسس موجودہ پوپ ہیں، حالانکہ وہ کئی ماہ پہلے وفات پا چکے تھے۔
اس تحقیق میں 18 ممالک کی 22 عوامی سروس میڈیا تنظیمیں شریک تھیں، جن میں فرانس، جرمنی، سپین، یوکرین، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں۔
یورپی ریڈیو یونین نے کہا کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے اسسٹنٹس روایتی نیوز سرچ انجنز کی جگہ لینے لگیں گے، عوام کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔
یورپی ریڈیو یونین کے میڈیا ڈائریکٹر جان فلپ ڈی ٹینڈر نے بیان میں کہا:جب لوگ نہیں جانتے کہ کس پر اعتماد کریں تو وہ بالآخر کسی پر بھی اعتماد نہیں کرتے اور یہ جمہوری شمولیت کو متاثر کر سکتا ہے۔
رائٹرز انسٹی ٹیوٹ کی 2025 کی ڈیجیٹل نیوز رپورٹ کے مطابق آن لائن خبروں کے تقریباً سات صارفین اور 25 سال سے کم عمر کے 15 افراد خبریں حاصل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے اسسٹنٹس استعمال کرتے ہیں۔
نئی رپورٹ میں مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جوابدہی کو یقینی بنائیں اور اپنے اسسٹنٹس کی خبروں سے متعلق سوالات کے جواب دینے کی صلاحیت میں بہتری لائیں۔