دل کے دورے اور فالج سے پہلے ظاہر ہونے والی خاموش مگر خطرناک نشانیاں
ایک حالیہ سائنسی تحقیق میں ان علامات اور ابتدائی نشانیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو دل کے دورے اور فالج (دماغی شریان کے بند ہونے) سے پہلے ظاہر ہوتی ہیں۔
یہ معلومات اس لحاظ سے نہایت اہم ہیں کہ اگر لوگ ان اشاروں کو بروقت پہچان لیں تو وہ ان خطرناک حالتوں سے بچاؤ یا فوری علاج ممکن بنا سکتے ہیں کیونکہ یہ بیماریاں دنیا بھر میں اموات کی سب سے عام اور بڑی وجوہات میں شمار ہوتی ہیں۔
برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ (The Independent) میں شائع ہونے والی ایک طبی تحقیق، جسے العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بھی ملاحظہ کیا ہے، میں ڈاکٹروں نے کئی ایسی علامات اور جسمانی اشاروں کی نشاندہی کی ہے جو عام طور پر دل کے دورے یا فالج سے پہلے ظاہر ہوتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق یہ علامات نہایت اہم اور خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتی ہیں، جن افراد میں یہ ظاہر ہوں، انہیں ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
نئی تحقیق کے مطابق دل کے دورے اور فالج سے پہلے ظاہر ہونے والی انتباہی علامات میں بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر) کولیسٹرول کی زیادتی اور خون میں شکر (گلوکوز) کی بلند سطح شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریباً تمام دل کے دوروں اور دماغی فالج کے کیسز سے پہلے یہ علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
جنوبی کوریا کی یون سی یونیورسٹی (Yonsei University) کے محققین کا کہنا ہے کہ بلند فشارِ خون، کولیسٹرول یا گلوکوز کی زیادتی کے ساتھ سگریٹ نوشی اکثر ان خطرناک امراض سے پہلے پائی جاتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ان قابلِ کنٹرول خطرات کی ابتدائی تشخیص اور نگرانی پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے تاکہ بڑے حملوں سے پہلے احتیاط ممکن ہو۔
اس نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے جنوبی کوریا کے 90 لاکھ سے زائد افراد اور امریکہ کے تقریباً سات ہزار افراد کے طبی ریکارڈز کا تجزیہ کیا اور ان کی صحت کی حالت کا مشاہدہ تقریباً بیس سال تک جاری رکھا۔
محققین نے دل کے دورے، فالج (سکتہ) یا دل کی کمزوری سے پہلے موجود چار بنیادی خطرناک عوامل کا جائزہ لیا، جن میں بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر)، کولیسٹرول کی زیادتی، خون میں شکر (گلوکوز) کی زیادتی اور سگریٹ نوشی شامل ہیں۔
ان عوامل کی غیر مثالی یا خطرناک سطحیں درج ذیل ہیں: ماضی میں تمباکو نوشی کا استعمال، بلڈ پریشر کا 120/80 ملی میٹر مرکری سے زیادہ ہونا، کل کولیسٹرول کا 200 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے زیادہ ہونا، خون میں روزہ کی حالت میں شکر کا 100 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے زیادہ ہونا یا ذیابیطس (شوگر) کی تشخیص ہونا۔
تحقیق میں محققین نے ان عوامل کی انتہائی خطرناک سطحوں پر بھی غور کیا،جن میں بلڈ پریشر 140/90 سے زیادہ، کولیسٹرول 240 سے زیادہ، گلوکوز 126 سے زیادہ اور سگریٹ نوشی شامل تھے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ 99 فیصد ایسے افراد جنہیں تحقیق کے دوران شدید دل کا دورہ پڑا، ان میں کم از کم ایک خطرناک عوامل موجود تھا، جبکہ 93 فیصد افراد میں دو یا اس سے زیادہ خطرے کے عوامل پائے گئے۔
امریکہ کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی (Northwestern University) سے وابستہ اور اس تحقیق کے شریک مصنف فیلیپ گرین لینڈ (Philip Greenland) نے کہا: ہمارا ماننا ہے کہ یہ تحقیق نہایت واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ دل یا خون کی نالیوں سے متعلق سنگین نتائج (جیسے دل کا دورہ یا فالج) سے پہلے تقریباً 100 فیصد مریضوں میں ایک یا زیادہ غیر مثالی خطرناک عوامل موجود ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: اب اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ان قابلِ اصلاح خطرات پر قابو پانے کے مؤثر طریقے تلاش کیے جائیں، بجائے اس کے کہ ان وجوہات پر تحقیق میں وقت ضائع کیا جائے جن کا علاج مشکل ہویا غیر بنیادی ہوں۔
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر) سب سے زیادہ عام خطرہ ہے، یہ جنوبی کوریا کے 95 فیصد اور امریکہ کے 93 فیصد مریضوں میں پایا گیا۔
یہاں تک کہ ساٹھ سال سے کم عمر خواتین جنہیں عموماً کم خطرے میں سمجھا جاتا ہے، ان میں بھی 95 فیصد سے زائد میں دل کی کمزوری یا فالج سے پہلے کم از کم ایک خطرناک عامل موجود تھا۔
تحقیق کے مطابق 90 فیصد سے زائد مریضوں میں پہلے دل کے دورے سے قبل کم از کم ایک بڑا خطرناک عنصر موجود تھا، جو اس بات کو مزید واضح کرتا ہے کہ ان ابتدائی اشاروں کو نظر انداز کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔