مردوں کے دماغ عورتوں سے مختلف انداز میں کام کرتے ہیں ، نئی تحقیق کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ انسانی دماغ میں سینکڑوں جین مردوں اور عورتوں میں مختلف انداز سے کام کرتے ہیں۔ یہ دریافت اس خیال کو مضبوط کرتی ہے کہ صرف ہارمونی یا ماحولیاتی عوامل ہی نہیں بلکہ جینیاتی فرق بھی رویے، دماغی افعال اور الزائمر یا پارکنسن جیسی دماغی بیماریوں کے خطرے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ابتدائی ارتقائی مراحل سے جینیاتی اختلافات

تحقیق کے مطابق جو آسٹریلیا کی ''لا ٹروب یونیورسٹی'' کی پروفیسر جینی گریوز نے کی اور سائنسی ویب سائٹ ScienceAlert پر شائع ہوئی، دماغ میں جینیاتی فرق حمل کے ابتدائی مراحل ہی سے ظاہر ہونے لگتے ہیں یہاں تک کہ اُس وقت بھی جب جنین کے جنسی اعضا ابھی بنے نہیں ہوتے اور جنسی ہارمونز خارج ہونا شروع نہیں ہوئے ہوتے۔

محققین نے انسانی جنین کے دماغی بافتوں (ٹشوز) کا مطالعہ کیا اور دریافت کیا کہ نر (مذکر) جنین میں تقریباً 1800 جین زیادہ سرگرم تھے، جب کہ مادہ (مونث) جنین میں تقریباً 1300 جین زیادہ فعال پائے گئے۔یہی جینیاتی نمونے بعد میں بالغ افراد کے دماغوں میں بھی دیکھے گئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فرق ابتدائی زندگی سے ہی قائم رہتا ہے۔

انسانی دماغ
انسانی دماغ

انسان اور بندروں کے دماغوں میں وسیع پیمانے پر نتائج

تحلیلِ ٹرانسکرپٹوم (یعنی خلیوں میں جینیاتی سرگرمی کا ریکارڈ) سے معلوم ہوا کہ تقریباً 610 جین مردوں کے دماغ میں زیادہ سرگرم ہیں، جب کہ 316 جین عورتوں کے دماغ میں زیادہ فعال پائے گئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ فرق صرف جنسی کروموسومز “X” اور “Y” تک محدود نہیں، بلکہ تقریباً 90 فیصد ایسے جین عام کروموسومز پر موجود ہیں جنہیں مرد و عورت دونوں میں پایا جاتا ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان جینز کی سرگرمی کو کنٹرول کرنے والے کچھ پوشیدہ نظام (mechanisms) موجود ہیں، جن میں غالباً جنسی ہارمونز جیسے ٹیسٹوسٹیرون اور ایسٹروجن اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ مطالعہ صرف انسانوں تک محدود نہیں رہا بلکہ بندروں، چوہوں اور یہاں تک کہ کیڑوں کے دماغوں میں بھی جینیاتی سرگرمی کے ایسے ہی نمونے پائے گئے۔

یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ جینیاتی فرق انتہائی قدیم ہیں اور تقریباً 7 کروڑ (70 ملین) سال پہلے کے مشترکہ آبا و اجداد تک پہنچتے ہیں۔

انسانی دماغ
انسانی دماغ

کیا مردوں اور عورتوں کے دماغ واقعی مختلف انداز میں کام کرتے ہیں؟

اس حوالے سے پروفیسر گریوز کا کہنا ہے کہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ یہ جینیاتی فرق ذہانت، سوچنے کے انداز یا ادراکی صلاحیتوں (Cognitive Abilities) میں فرق پیدا کرتے ہیں۔تاہم وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ اس پیمانے پر جینیاتی اظہار (Gene Expression) میں پایا جانے والا فرق یقیناً دماغ کی بعض اعصابی (Neural) کارکردگیوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ خواتین کے دماغ میں زیادہ فعال جینز اعصابی رابطے اور خلیوں کے درمیان مواصلات سے متعلق ہیں، جبکہ مردوں کے دماغ میں سرگرم جینز زیادہ تر خلیاتی جھلیوں (Membranes) اور نیوکلیائی ساختوں (Cell Nuclei) سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مرد و عورت کے دماغوں میں ساختی تنظیم (Structural Organization) کے اعتبار سے باریک مگر حقیقی فرق موجود ہے۔

انسانی دماغ
انسانی دماغ

عصبی بیماریوں سے تعلق

تحقیق کے مطابق یہ جینیاتی فرق مردوں اور عورتوں میں بعض عصبی (نیورولوجیکل) بیماریوں کی شرح میں پائے جانے والے فرق کی وضاحت کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر الزائمر سے متعلق کئی جینز خواتین کے دماغ میں زیادہ سرگرم پائے گئے، جو شاید اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ عورتوں میں الزائمر کی شرح مردوں کے مقابلے میں تقریباً دو گنا زیادہ کیوں ہے۔

جہاں تک پارکنسن کے مرض کا تعلق ہے، تو سابقہ تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ ایک جین SRYجو صرف مردوں میں پایا جاتا ہے، جب دماغ میں فعال ہوجاتا ہے تو یہ بیماری کی شدت کو بڑھا سکتا ہے۔

ہماری تخیل سے زیادہ گہرے اثرات

محققین کے مطابق یہ نتائج ثابت کرتے ہیں کہ مرد و عورت کے دماغوں کے درمیان فرق صرف سطحی یا زندگی کے تجربات سے حاصل شدہ نہیں ہے، بلکہ یہ جینیاتی اور خلیاتی سطح تک پھیلا ہوا ہے۔تاہم وہ یہ بھی وضاحت کرتے ہیں کہ جینیاتی سرگرمی میں فرق کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ دماغ کا حتمی نتیجہ یا کارکردگی بھی مختلف ہوگی، کیونکہ خلیے اکثر ایسے فرق کو متوازن کرنے کے لیے تلافیاتی نظام (compensatory mechanisms) استعمال کرتے ہیں تاکہ پروٹینز اور اعصابی افعال میں استحکام برقرار رہے۔

پروفیسر گریوز کے مطابق نر و مادہ کے دماغوں کے درمیان حیاتیاتی فرق ایک ارتقائی مظہر (evolutionary phenomenon) ہے جو تقریباً تمام فقاری جانوروں (vertebrates) میں پایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان فرقوں کو سمجھنا مستقبل میں ان عصبی بیماریوں کے علاج میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے جو مردوں اور عورتوں میں مختلف شرح سے پائی جاتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں