آدھے سر کے درد کے دوروں کے پیچھے ایک خفیہ وجہ جوسب سے زیادہ خواتین کو متاثر کرتی ہے

گردن کے 90فیصد کھچاؤ لمبے وقت تک میز کے سامنے بیٹھنے اور گردن کو آگے کی طرف جھکانے سے پیدا ہوتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ماہرِ اعصاب اور ریڑھ کی ہڈی کے امراض کے ڈاکٹر آندرے راتینوف نے انکشاف کیا ہے کہ مائیگرین دنیا میں سب سے زیادہ پائے جانے والے امراض میں تیسرے نمبر پر ہے، جو شدید دردِ سر کے دوروں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور اکثر صورتوں میں یہ درد مزمن (دائمی) شکل اختیار کر لیتا ہے۔

ڈاکٹر کے مطابق گردن کا کھچاؤ (Tension) مائیگرین کی ایک خفیہ وجہ ہو سکتا ہے، جو عموماً گردن سے شروع ہوتا ہے اور سر جھکانے پر بڑھ جاتا ہے۔ یہ درد اکثر سر کے ایک طرف محسوس ہوتا ہے اور اس کے ساتھ سر کے پچھلے حصے میں تناؤ یا سر میں بوجھ محسوس ہونے کی شکایت بھی ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گردن کے 90 فیصد کھچاؤ مختلف عوامل کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، جن میں لمبے وقت تک میز کے سامنے بیٹھنا اور گردن کو آگے جھکانا شامل ہے، جو خون کی گردش میں رکاوٹ اور اعصاب پر دباؤ ڈالتا ہے۔ اس کے علاوہ غیر فعال طرزِ زندگی اور مزمن ذہنی دباؤ بھی اس مسئلے کو بڑھا دیتے ہیں۔

ڈاکٹر راتینوف کے مطابق خواتین زیادہ متاثر ہوتی ہیں کیونکہ وہ اکثر کمپیوٹر پر کام کرتے وقت غلط بیٹھنے کی پوزیشن اپناتی ہیںاور ہینڈ بیگ ہمیشہ ایک ہی کندھے پر اٹھانے کی عادت بھی گردن کے کھچاؤ کو مستقل بنا دیتی ہے۔

نامناسب تکیہ

ڈاکٹر راتینوف نے مزید بتایا کہ نامناسب تکیہ گردن کے تناؤ اور سر درد میں بڑا کردار ادا کرتا ہے۔ اگر تکیہ بہت اونچا یا بہت نرم ہو تو گردن پوری رات ایک طرف جھکی رہتی ہے، جس کے باعث عضلات کو آرام کے بجائے مسلسل کام کرنا پڑتا ہے، یوں باریک تشنجات پیدا ہوتی جاتی ہیں، جو وقت کے ساتھ بڑھ کر تکلیف کا باعث بنتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غلط تکیے پر سونا صبح میں گردن کے درد، بار بار ہونے والے سر درد اور انگلیوں میں سن ہونے کی شکایت پیدا کر سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص سوتے وقت اپنا بازو سر کے نیچے رکھے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ تکیہ گردن کو مناسب سہارا نہیں دے رہا۔ نیند کے دوران گردن کا زاویہ ریڑھ کی ہڈی کے سیدھ میں رہنا چاہیے۔

ڈاکٹر کے مطابق تکیہ بدلنا اور سونے کی پوزیشن درست کرنا 60 سے 70 فیصد مریضوں میں سر درد میں کمی لاتا ہے، اور یہ سادہ سا قدم صحت پر بہت مثبت اثر ڈالتا ہے۔

ماہرہ مارینا فلاسووا کے مطابق تکیہ منتخب کرتے وقت دو بنیادی چیزوں کا خیال رکھنا ضروری ہے:

موٹائی سختی

انہوں نے بتایا کہ اگر کروٹ لے کر سونا ہو تو تکیے کی اونچائی کندھے اور گردن کے درمیانی فاصلے کے برابر ہونی چاہیے اور اگر سیدھا (پیٹھ کے بل) سونا ہو تو تکیہ اس سے کم اونچا ہونا چاہیے تاکہ پٹھوں کے کھچاؤ سے بچا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں