انڈونیشیا میں 8 میٹر گہری کھدائیوں سے انکشاف ہوا ہے کہ انسانوں اور انسان نما مخلوق کی ایک قسم ، جو انسانوں سے قدیم ہے، نے ایک ہی غار کا استعمال کیا بلکہ ایک دلچسپ امکان یہ بھی ہے کہ دونوں قسمیں ایک ہی وقت میں ایک ہی جگہ پر ساتھ رہی ہوں۔ یہ تحقیق ویب سائٹ ’’ نیو اٹلس ‘‘شائع کی ہے۔
سولاویزی جزیرہ
سولاویزی جزیرہ تقریباً انڈونیشیائی جزائر کے وسط میں واقع ہے۔ یہ ملک کا چوتھا بڑا اور دنیا کا گیارہواں بڑا جزیرہ ہے جو اسے جنوب مشرقی ایشیا کی سرزمین اور ’’ ساہول ‘‘ (جس میں نیو گنی اور آسٹریلیا شامل ہیں) کہلانے والے خطے کے درمیان سب سے بڑا زمینی حصہ بناتا ہے۔ اس محل وقوع نے سولاویزی جزیرے کو ایشیا سے آسٹریلیا کی طرف ہجرت کے راستوں پر ایک اہم پڑاؤ بنا دیا ہے ۔ اس طرح یہ ارتقاء کے اسرار کو حل کرنے والے ماہرین آثار قدیمہ کے لیے ایک قیمتی خزانہ ہے۔
آثار قدیمہ کے ریکارڈ میں انقلابی تبدیلی
سولاویزی کے جنوبی حصے میں ’’ لیانگ بولو بیٹو ‘‘ غار نے ان سائنسدانوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے جو 2013 سے وہاں کھدائی کر رہے ہیں۔ 2023 میں محققین کی ایک ٹیم نے تقریباً 26 فٹ کی گہرائی تک پہنچنے والی کھدائی مکمل کی جس نے انہیں تقریباً 2 لاکھ سال پرانے دور کو دریافت کرنے کا موقع فراہم کیا۔ جریدے "PLOS ONE" میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں آسٹریلیا کی گریفتھ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی قیادت میں محققین کی ایک بین الاقوامی ٹیم کو ایسے شواہد ملے ہیں جو تقریباً 40 ہزار سال پہلے آثار قدیمہ کے ریکارڈ میں ایک انقلابی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
ابتدائی انسان نما مخلوق
ٹیم کے نتائج کے مطابق اس تاریخ سے پہلے کی کھدائیوں سے ایسے اوزار دریافت ہوئے جو انسان نما کی ایک ایسی قسم نے استعمال کیے تھے جو اب معدوم ہو چکی ہے۔ یہ قدیم اوزار کیکر اور چھرے کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ دریا کے پتھروں یا کنکریوں کو تراش کر قابل استعمال اوزار بنائے جاتے تھے جن میں کلہاڑی نما اوزار بھی شامل تھے۔ ایک حیران کن دریافت میں محققین کو ان تہوں میں بندروں کی ہڈیاں بھی ملیں جہاں یہ اوزار پائے گئے تھے۔ یہ ایک انتہائی اہم بات ہے کیونکہ بندر جیسے ذہین، پھرتیلے اور تیز جانور کا پیچھا کرنا اور شکار کرنا اعلیٰ درجے کی مہارتوں کا تقاضا کرتا ہے جو عام طور پر ابتدائی انسان نما مخلوقات سے منسوب نہیں کی جاتیں۔
چونکہ سائنسدان اس قسم کے حیاتیاتی ڈھانچے (فوسلز) تلاش نہیں کر سکے۔ اس لیے وہ اس کی درست شناخت نہیں کر پائے لیکن انہوں نے کچھ امکانات پیش کیے ہیں جن میں "ہومو ایریکٹس" (Homo erectus)، "ڈینسوونز" (Denisovans)، ہومو ایریکٹس کا ایک بونا رشتہ دار، یا انسان نما کی کوئی ایسی قسم، جو ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی ، شامل ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی کے اوزار
یہ واضح ہے کہ 40 ہزار سال پہلے انسان پہنچے اور ایک انقلابی تبدیلی پیدا کی۔ مطالعہ کے اہم محقق باسران برہان کہتے ہیں کہ اس بعد والے مرحلے کی خصوصیت جدید تکنیکی اوزاروں کا مجموعہ اور جزیرے پر فنکارانہ اظہار اور علامتی رویے کا قدیم ترین معلوم ثبوت ہے جو جدید انسان کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
ان دونوں مراحل کے درمیان یہ واضح رویہ کی تبدیلی سولاویزی میں ایک بڑی آبادیاتی اور ثقافتی تبدیلی کی عکاسی کر سکتی ہے۔ خاص طور پر مقامی ماحول میں انسانی نسل کی آمد اور ابتدائی انسان نما آبادی کی جگہ لینے کے حوالے سے تبدیلی کی وضاحت ہوسکتی ہے۔
زیورات اور نقوش
ان نتائج میں جو جزیرے پر انسانوں کی آمد کی حمایت کرتے ہیں، ان میں زیورات، پتھر کی سلوں پر بنے نقوش، زیادہ جدید پتھر کے اوزار اور ذبح کیے جانے والے اور کھائے جانے والے جانوروں کی اقسام میں تبدیلی شامل ہیں
ممکنہ وقتی اوور لیپ
اگرچہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا انسان اور معدوم ہو جانے والے انسان نما بالکل ایک ہی وقت میں غار میں رہتے تھے لیکن محققین کا کہنا ہے کہ "لیانگ بولو بیٹو" غار وقتی تداخل (Overlap) تلاش کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ گریفتھ یونیورسٹی میں محقق برہان کے نگران ایڈم بروم نے کہا کہ اسی لیے سولاویزی میں آثار قدیمہ کی تحقیق کرنا انتہائی دلچسپ ہے۔ مثال کے طور پر محققین آسٹریلیا کی کسی بھی سائٹ پر جتنا چاہیں گہرا کھود سکتے ہیں لیکن انہیں انسانی نسل کی آمد سے پہلے انسانی موجودگی کا کوئی ثبوت کبھی نہیں ملے گا کیونکہ آسٹریلیا میں صرف 'ہومو سیپینز' (جدید انسان) آباد تھے۔ لیکن سولاویزی میں انسانی نسل کی آمد سے لاکھوں سال پہلے انسان نما موجود تھے لہذا اگر کافی گہرائی تک کھدائی کی جائے تو شاید مطالعہ وقت میں اس نقطہ تک واپس چلا جائے جہاں انسانوں کی دو قسمیں آمنے سامنے ملی ہوں گی۔
ارتقاء اور ہجرت کی گہری سمجھ
فی الحال کھدائی کا کام اس امید پر جاری رہے گا کہ اس سے ارتقاء اور ہجرت کے بارے میں گہری سمجھ حاصل ہو سکے۔ محقق برہان نے کہا کہ شاید آثار قدیمہ کی دیگر تہیں موجود ہوں جو 'لیانگ بولو بیٹو' میں اب تک کھودی گئی گہری سطح سے کئی میٹر نیچے تک پھیلی ہوئی ہوں۔ لہذا اس جگہ پر کام جاری رکھنا ایسی نئی دریافتوں کو بے نقاب کر سکتا ہے جو اس جزیرے پر قدیم انسان کی تاریخ اور شاید اس سے بھی وسیع تر پیمانے پر ہماری سمجھ کو بدل دیں۔