ایک پوشیدہ عادت جو آہستہ آہستہ جمع ہو کر آپ کا اعتمادِ نفس بتدریج تباہ کر سکتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 10 منٹ

خود سے دستبرداری ایک پوشیدہ مگر نہایت نقصان دہ عادت ہے، جو مسلسل اپنی ضروریات، احساسات اور اندرونی رجحانات کو نظرانداز کرنے کے باعث اعتمادِ نفس کو کمزور کر دیتی ہے۔

یہ عمل اکثر دوسروں کی خوشنودی، ہم آہنگی یا قبولیت حاصل کرنے کی کوشش میں انجام پاتا ہے۔بڑی ناکامیوں کے برعکس، خود سے دستبرداری اچانک نہیں ہوتی بلکہ چھوٹے چھوٹے رویّوں کے بتدریج جمع ہونے کا نتیجہ ہوتی ہے، جیسے اپنے آپ سے کیے گئے وعدے توڑ دینا، اپنی وجدان یا اندرونی رہنمائی کو نظرانداز کرنا یا اپنے حقیقی خیالات اور احساسات کو دبانا۔ اس طرح انسان آہستہ آہستہ اپنے اوپر اعتماد کھونے لگتا ہے۔

مطابقت اختیار کرنے والی ذات

فوربز (Forbes) میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ماہرینِ نفسیات اس عادت کو "حقیقی ذات" کے بجائے "مطابقت اختیار کرنے والی ذات" کو ترجیح دینا قرار دیتے ہیں، جو بالآخر اعتمادِ نفس میں کمی کا باعث بنتی ہے۔

یہ رویہ اکثر بچپن کے تجربات میں جڑیں رکھتا ہے۔ بظاہر یہ ایک مثبت اور قابلِ تعریف خصلت محسوس ہوتی ہے، کیونکہ اس میں انسان دوسروں کی توقعات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن طویل مدت میں یہ خود اعتمادی اور خود احترام کو کمزور کر دیتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اعتمادِ نفس کی بحالی بڑے اور ڈرامائی اقدامات سے نہیں بلکہ چھوٹے مگر مسلسل مثبت رویّوں سے ممکن ہوتی ہے۔ ان میں اپنے آپ سے کیے گئے وعدے پورے کرنا، اپنی اندرونی آواز اور احساسات کو اہمیت دینا، اور بیرونی مطالبات یا دباؤ پر فوراً ردِعمل دینے کے بجائے کچھ دیر توقف کر کے سوچنا شامل ہے۔

یہ تدریجی عمل انسان کو دوبارہ اپنے اوپر بھروسا کرنا سکھاتا ہے، اور یہی خود اعتمادی درحقیقت حقیقی اعتمادِ نفس کی بنیاد بنتی ہے۔

اعتمادِ نفس کو کمزور کرنے والے خطرات

کچھ لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ اعتمادِ نفس کو نقصان پہنچانے والی چیزیں وہ ہوتی ہیں، جو واضح طور پر نظر آتی ہیں، جیسے دوسروں کے سامنے ناکامی، سخت تنقید، یا طویل عرصے تک خود پر شک۔ لیکن حقیقت میں سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والی عادت وہ ہوتی ہے جو خاموشی سے کام کرتی ہے اور آہستہ آہستہ اثر انداز ہوتی ہے۔

اس کی ایک اہم مثال وہ آخری وعدہ ہے، جسے انسان نے خاموشی سے توڑ دیا، یا کسی کو اپنی حدود سے تجاوز کرنے کی اجازت دینا یا اپنے حقیقی ردِعمل کو دباکر ایک آسان مگر غیر حقیقی ردِعمل اختیار کرنا۔

یہ تمام لمحات بظاہر غیر اہم لگتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ یہ چھوٹے رویّے جمع ہو کر انسان کے اپنے اوپر اعتماد کو بتدریج کمزور کر دیتے ہیں۔

خود سے دستبرداری

ماہرینِ نفسیات اس رویّے کو خود سے دستبرداری کا نام دیتے ہیں، یعنی انسان کا اپنی ضروریات، اندرونی احساسات اور ذاتی ذمہ داریوں کو مستقل طور پر نظرانداز کرنا، تاکہ بیرونی ہم آہنگی برقرار رہے، دوسروں کی قبولیت حاصل ہو، یا کسی قسم کی بے چینی سے بچا جا سکے۔

تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رویہ اعتمادِ نفس کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے مگر کم سمجھے جانے والے عوامل میں سے ایک ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بظاہر نقصان دہ نظر نہیں آتا، بلکہ اکثر حالات میں یہ سمجھداری یا معقول رویہ محسوس ہوتا ہے۔ تاہم وقت کے ساتھ یہی عادت انسان کے اندر خود پر اعتماد کو خاموشی سے کمزور کرتی جاتی ہے۔

خود کو نظرانداز کرنے کی عادت

خود کو نظرانداز کرنا کوئی ڈرامائی یا فوری عمل نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک ایسا رویّہ ہے جو وقت کے ساتھ اندرونی اشاروں کو مسلسل نظرانداز کرنے سے بنتا ہے، تاکہ وہ انتخاب کیا جا سکے جو بظاہر زیادہ محفوظ، سماجی طور پر قابلِ قبول یا بیرونی توقعات کے مطابق ہو۔

ماہرینِ نفسیات حقیقی ذات اورمطابقت اختیار کرنے والی ذات میں فرق کرتے ہیں۔ حقیقی ذات وہ حصہ ہے جو انسان کے اصل احساسات، ضروریات، ردِعمل اور اقدار کو محسوس اور ریکارڈ کرتا ہے، جبکہ مطابقت اختیار کرنے والی ذات وہ ہوتی ہے، جو تعلقات برقرار رکھنے یا تنازع سے بچنے کے لیے اپنے ردِعمل کو دبانا اور خاموش کرنا سیکھ لیتی ہے۔

خود کو نظرانداز کرنے کی 4 شکلیں

خود کو نظرانداز کرنا چار واضح شکلوں میں سامنے آتا ہے اور ہر ایک اپنی جگہ دیکھنے میں عام اور غیر اہم محسوس ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب انہیں الگ الگ دیکھا جائے۔

1۔ وعدے توڑنا:

ہر وہ وعدہ جو انسان اپنے آپ سے کرتا ہے اور پورا نہیں کرتا، ایک چھوٹا مگر معنی خیز اشارہ ہوتا ہے۔ یہ انسان کے اعصابی نظام کو یہ پیغام دیتا ہے کہ اس کی اپنی بات کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔ اعتمادِ نفس صرف نیت سے بحال نہیں ہوتا، بلکہ چھوٹے چھوٹے وعدوں کو صبر کے ساتھ پورا کرنے سے مضبوط ہوتا ہے۔

2۔ اندرونی احساسات کو نظرانداز کرنا:

اندرونی جسمانی اور ذہنی اشاروں کو سمجھنے اور ان پر ردعمل دینے کی صلاحیت فیصلہ سازی اور خود نظم و ضبط میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جب انسان مسلسل ان اشاروں کو نظرانداز کرتا ہے تو وقت کے ساتھ ان کی وضاحت اور شدت کم ہونے لگتی ہے، جس سے صحیح فیصلے کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

3۔ اپنی آواز کو دبانا:

کام کی جگہ، تعلقات یا خاندانی معاملات میں بار بار اپنی رائے ظاہر نہ کرنا صرف دوسروں کی نظر میں ہی نہیں بلکہ انسان کی اپنی نظر میں بھی اثر ڈالتا ہے۔ ہر بار جب انسان خاموشی اختیار کرتا ہے تو اندرونی طور پر یہ تاثر مضبوط ہوتا جاتا ہے کہ اس کی رائے قابلِ قدر نہیں۔ وقت کے ساتھ یہ ایک عادت اور یقین کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

4۔ اقدار سے دستبرداری:

یہ سب سے زیادہ نقصان دہ شکل ہے۔ جب انسان بار بار اپنے اصولوں، اخلاقی معیار یا ذاتی مفاد کے خلاف دوسروں کو خوش کرنے کے لیے عمل کرتا ہے تو اندرونی تضاد پیدا ہوتا ہے، جو اعتمادِ نفس کو آہستہ آہستہ کمزور کر دیتا ہے۔ یہ ایسے رویّوں کا مجموعہ بن جاتا ہے جو انسان کو خود اپنی نظر میں اجنبی بنا دیتا ہے۔

خود سے دستبرداری پیدا ہونے کی وجوہات

بہت سے لوگوں میں یہ رویّہ ابتدائی زندگی کے تجربات سے جنم لیتا ہے، جہاں انہیں یہ محسوس ہوا کہ محبت یا قدر صرف اسی وقت ملتی ہے جب وہ دوسروں کے مطابق خود کو ڈھالیں۔

جب اپنی حقیقی ضروریات کا اظہار کیا جاتا تو اس کے نتیجے میں اکثر تنازع، دوری یا نظرانداز کیے جانے کا سامنا ہوتا۔

تحقیقات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ وہ ماحول جہاں بچپن میں جذباتی طور پر نظرانداز کیا گیا ہو یا دیکھ بھال میں عدم تسلسل رہا ہو، وہاں بڑے ہو کر انسان میں دوسروں کو خوش رکھنے، جذبات کو دبانے اور بعض اوقات خود کو نقصان پہنچانے کے رجحانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

یہ رویّے ابتدا میں بقا کے لیے ایک موافق حکمتِ عملی کے طور پر اختیار کیے جاتے ہیں تاکہ مشکل حالات میں تعلق برقرار رکھا جا سکے، لیکن بالغ زندگی میں یہی ردعمل غیر شعوری طور پر جاری رہتے ہیں حالانکہ ان کی افادیت ختم ہو چکی ہوتی ہے۔

اس رویّے کو پہچاننا اس لیے بھی مشکل ہوتا ہے کیونکہ یہ اکثر "خوبی" کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ صبر، لحاظ یا پختگی جیسے مثبت اوصاف کی طرح محسوس ہوتا ہے۔

ایسے ماحول جو دوسروں کی مرضی کے مطابق چلنے اور منظوری حاصل کرنے کو انعام دیتے ہیں، اس رجحان کو مزید مضبوط کر دیتے ہیں۔ اس کے منفی اثرات تب سامنے آتے ہیں، جب یہ عادت حد سے بڑھ جائے اور انسان کی اندرونی خود اعتمادی کو متاثر کرنا شروع کر دے۔

تاہم اس منظم شدہ رویّے کو آہستہ آہستہ چھوٹے اور قابلِ کنٹرول روزمرہ اقدامات کے ذریعے بدلا جا سکتا ہے، جیسے خود کی ضروریات کا خیال رکھنا اور اعتمادِ نفس کو دوبارہ مضبوط کرنا۔

1۔ اپنے لیے ایک چھوٹا وعدہ پورا کرنا:

اعتمادِ نفس صرف سمجھنے سے نہیں بنتا، بلکہ اس کے لیے ثبوت درکار ہوتا ہے۔ یہ ثبوت ان لمحوں کے جمع ہونے سے بنتا ہے جب انسان اپنے آپ سے کیے گئے وعدے پورے کرتا ہے۔ یہاں وعدے کے بڑے یا چھوٹے ہونے سے زیادہ اہم بات اس پر مسلسل قائم رہنا ہے۔

2۔ اندرونی اشاروں کو اہمیت دینا:

Frontiers in Psychology میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق جذباتی کیفیت کو درست طور پر پہچاننے اور بیان کرنے کی صلاحیت، بجائے اسے صرف ایک عمومی بےچینی سمجھنے کے، بہتر جذباتی نظم، بہتر فیصلہ سازی اور زیادہ نفسیاتی سکون سے جڑی ہوتی ہے۔ جب انسان اپنے اندرونی احساسات کو سمجھنا شروع کرتا ہے تو وہ زیادہ متوازن فیصلے کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔

3۔ جھکنے سے پہلے لمحہ بھر رکنا:

کسی بات پر فوراً رضامندی، ٹال مٹول یا خاموشی اختیار کرنے سے پہلے ایک لمحہ رک کر یہ سوال کرنا ضروری ہے کہ جو ردعمل دیا جا رہا ہے، کیا وہ واقعی اپنی سوچ اور ضرورت کی نمائندگی کرتا ہے یا صرف خودکار طور پر حالات کے مطابق ڈھلنے کی کوشش ہے۔

یہ چھوٹا سا توقف خود کو حالات کے مطابق بے سوچے سمجھے ڈھالنے کے رجحان کو روکنے میں مدد دیتا ہے، اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے بتدریج بحالی شروع ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں