بچوں کے لیے روزانہ کھیل اور تخلیقی سرگرمیوں کا وقت مقرر کریں
امریکی بچوں کے ایک خصوصی اسپتال یونیورسٹی آف مشی گن کی جانب سے کیے گئے ایک رائے عامہ کے سروے کے نتائج سے انکشاف ہوا ہے کہ 83 فیصد والدین کا ماننا ہے کہ امریکا میں بچوں کی ذہنی صحت بگڑتی جا رہی ہے۔
انٹرنیٹ کی حفاظت
امریکی نیٹ ورک CNBC کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق بہت سے لوگ اس صورتحال کا ذمہ دار اسکرینز کو ٹھہراتے ہیں۔
رائے عامہ کے سروے میں شریک تین چوتھائی افراد نے اس بات کی نشاندہی کی کہ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک آلات کا عمومی استعمال امریکی نوجوانوں کے لیے ایک بڑی مشکل بن چکا ہے، جبکہ 66 فیصد نے خاص طور پر انٹرنیٹ کی حفاظت کو ایک سنگین مسئلہ قرار دیا۔
صحت اور سائنس کی ماہر صحافی کیتھرین پرائس جو ایک 10 سالہ بچی کی والدہ بھی ہیں، دیگر والدین کی آرا سے اتفاق کرتے ہوئے کہتی ہیں:بچے اسکرین کے سامنے جو ہر منٹ گزارتے ہیں، وہ ایک ایسا منٹ ہوتا ہے جس میں وہ نہ حقیقی مہارتیں سیکھتے ہیں نہ حقیقی تعلقات بناتے ہیں اور نہ ہی حقیقی تجربات حاصل کرتے ہیں۔
حال ہی میں پرائس نے جوناتھَن ہائیڈٹ کے ساتھ مل کر—جو کتاب دی اینگزائَس جنریشن (The Anxious Generation) کے مصنف ہیں۔قبل از بلوغت عمر کے بچوں میں اسکرینز اور سوشل میڈیا کے استعمال پر ایک کتاب تحریر کی ہے۔ اس کتاب کا عنوان ہے:دی امیزنگ جنریشن: اسکرینوں سے بھرپور دنیا میں خوشی اور آزادی کے لیے آپ کی رہنمائی۔کتاب میں ان والدین کے لیے کچھ تجاویز شامل کی گئی ہیں جو اپنے بچوں کے الیکٹرانک آلات کے استعمال کو محدود کرنا چاہتے ہیں، جن میں درج ذیل سفارشات شامل ہیں:
اچھی مثال قائم کرنا
برايس کہتی ہیں:اگر بچے یہ دیکھیں کہ آپ خود بھی اپنی اسکرین استعمال کرنے کی عادات بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تو ان کے لیے اسکرین ٹائم کم کرنا کہیں زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جس رویے کو آپ اپنے بچوں میں دیکھنا چاہتے ہیں، اس کی عملی مثال پیش کرنا ان کی شخصیت سازی کی بنیادی کنجی ہے۔تربیتِ اولاد کے ماہر مصنف تھیو وولف نے امریکی نیٹ ورک CNBC کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک حالیہ مضمون میں لکھا:والد کو یہ سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے بچے کو کس طرح کا انسان بنتا دیکھنا چاہتا ہے اور پھر خود سے یہ سوال کرنا چاہیے: کیا میں یہ خوبیاں اس کے سامنے ظاہر کرتا ہوں؟ اور کیا میں کوئی ایسا عمل تو نہیں کر رہا جو اُن اقدار کے خلاف ہو جنہیں میں اس میں راسخ کرنا چاہتا ہوں؟
وہ مزید کہتے ہیں کہ والدین اپنے بچے سے یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اگر وہ موبائل فون یا کمپیوٹر کا حد سے زیادہ استعمال کریں تو بچہ انہیں اس پر ٹوک دے۔
مشترکہ خاندانی موبائل فون
ہر بچے کو الگ ذاتی موبائل فون دینے کے بجائے، گھر میں چند مشترکہ خاندانی فونز فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ برايس بچوں میں رابطے کی صلاحیتیں بڑھانے کے لیے لینڈ لائن فون کے استعمال کی تجویز دیتی ہیں، ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں کہ وہ اس کے ذریعے اپنے دادا دادی یا نانا نانی سے خیریت دریافت کریں یا دوستوں سے بات چیت کریں۔
اس کے علاوہ اسکول کے بعد یا دوستوں کے گھر جاتے وقت استعمال کے لیے ایک سادہ خاندانی موبائل فون بھی رکھا جا سکتا ہے۔ برايس کے مطابق یہ ایسا فون ہو سکتا ہے جسے بچے ضرورت کے وقت لے جائیں، استعمال کریں اور پھر واپس رکھ دیں۔
مالی ذمہ داری قبول کرنا
پرائس اس بات کی حامی ہیں کہ بچوں کے لیے اسمارٹ فون خریدنے کو کم از کم سولہ سال کی عمر تک مؤخر کیا جائے، اور اسی کی سفارش ماہرِ نفسیات جین ٹوئنگی بھی کرتی ہیں۔ اگر والدین اس میں مزید تاخیر کرنا چاہیں تو وہ اپنے بچوں سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنے اسمارٹ فون کی قیمت خود ادا کریں۔
ان کے مطابق:اگر انہیں اس کی مالی ذمہ داری کا احساس ہو جائے تو غالب امکان ہے کہ وہ پچیس سال کی عمر تک اسمارٹ فون حاصل نہ کریں۔اس کے علاوہ یہ فیصلہ انہیں اہداف کے حصول کے لیے محنت کی اہمیت کے بارے میں اہم اسباق سکھانےمیں بھی مدد دے سکتا ہے۔