ریاض میں آج منگل کے روز سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان قصرِ یمامہ میں سعودی-امریکی سربراہی اجلاس منعقد ہوا۔
اس سے قبل ٹرمپ آج منگل کی صبح امریکی صدارتی طیارے کے ذریعے ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پہنچے۔ مملکت کی حدود میں داخلے کے بعد ان کے طیارے کی ہمراہی سعودی فضائیہ کے "ایف 15" جنگی طیارے کر رہے تھے۔ امریکی صدر کے ساتھ ایک بڑے وفد کی بھی آمد ہوئی ہے جس میں متعدد وزرا اور اعلیٰ سرکاری شخصیات شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں اپنے اس دورے کو ، جس میں وہ سعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارات اور قطر بھی جائیں گے، ایک تاریخی دورہ قرار دیا تھا۔
سعودی کابینہ نے، جس کی صدارت ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کی، اپنی حالیہ نشست میں امریکی صدر کے اس سرکاری دورے کا خیر مقدم کیا۔ کابینہ نے امید ظاہر کی کہ یہ دورہ دونوں دوست ممالک کے درمیان تعاون اور تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط اور ترقی یافتہ بنانے میں مدد گار ثابت ہو گا، تاکہ باہمی مفادات اور مشترکہ وژن کو آگے بڑھایا جا سکے۔ یہ بات سعودی سرکاری خبررساں ایجنسی "ایس پی اے" نے بتائی۔
یاد رہے کہ یہ صدر ٹرمپ کا اپنی دوسری صدارتی مدت میں بیرونِ ملک پہلا سرکاری دورہ ہے۔ آٹھ سال قبل بھی، جب وہ پہلی بار صدر منتخب ہوئے تھے، تو انھوں نے سعودی عرب کو اپنی پہلی غیر ملکی منزل کے طور پر چنا تھا ... جو اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ سعودی عرب کا خطے میں بڑھتا ہوا جغرافیائی و سیاسی کردار اور دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی و تجارتی تعلقات کس قدر اہمیت رکھتے ہیں۔