دانت پیسنے کی عادت؟ یہ تین سوالات ابتدائی مرحلے میں بتا دیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

کچھ طبی مسائل شور مچائے بغیر جسم میں جڑ پکڑ لیتے ہیں اور انسان کو اس وقت احساس ہوتا ہے، جب نقصان خاصا بڑھ چکا ہوتا ہے۔ دانت پیسنا یا جبڑوں کو غیر ارادی طور پر سختی سے بھینچ لینا بھی ایسی ہی ایک خاموش عادت ہے، جو دن کی مصروفیات ہو یا رات کی نیند، لاشعوری طور پر جاری رہتی ہے۔ یہ کیفیت جسے طبّی زبان میں صريرِ اسنان (Bruxism) کہا جاتا ہے، بظاہر معمولی محسوس ہوتی ہے، مگر اگر طویل عرصے تک برقرار رہے تو دانتوں کی ساخت، جبڑے کے جوڑ، سر درد اور نیند کے معیار تک کو متاثر کر سکتی ہےاور اکثر لوگ اس کا شکار ہونے کے باوجود بے خبر رہتے ہیں۔

ویب سائٹ دی کنورسیشن میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ماہرینِ صحتِ دہن کا کہنا ہے کہ اس عادت کی تین بالواسطہ علامات ایسی ہیں ،جو مریض یا اس کے ساتھ سونے والے فرد کے نوٹس لینے سے پہلے ہی خبردار کر سکتی ہیں۔

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ کم از کم ہفتے میں ایک بار خود سے درج ذیل سوالات ضرور پوچھیں:
کیا آپ کو کنپٹیوں، چہرے، جبڑے یا کان کے قریب درد یا اکڑن محسوس ہوتی ہے؟
کیا منہ کھولتے وقت یا چبانے کے دوران درد ہوتا ہے؟
کیا جبڑے میں چٹخنے کی آواز آتی ہے یا کبھی یوں لگتا ہے کہ جبڑا پھنس یا لاک ہو گیا ہے؟

ان میں سے کسی ایک سوال کا جواب اگر ''ہاں ''میں ہو، تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ آپ دانت پیسنے یا زور سے دبانے کی عادت میں مبتلا ہیں، چاہے آپ کو خود اس کا احساس نہ ہو۔

دانت پیسنا عموماً غیر ارادی طور پر ہوتا ہے، جس میں چبانے والے پٹھے شدید تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں، نچلا جبڑا آگے کی طرف دب جاتا ہے یا سختی سے جکڑ جاتا ہے اور دانت آپس میں رگڑ کھانے لگتے ہیں۔

اندازوں کے مطابق ہر چھ میں سے ایک شخص نیند کے دوران دانت پیسنے کا شکار ہوتا ہے، جبکہ ہر چار میں سے ایک فرد بیداری کے اوقات میں اس مسئلے کا سامنا کرتا ہے۔ہلکی اور کبھی کبھار ہونے والی صورتوں میں یہ عادت زیادہ نقصان دہ نہیں ہوتی، لیکن جب یہ بار بار یا شدت کے ساتھ ہونے لگے ،تو اس کے نتیجے میں درج ذیل مسائل پیدا ہو سکتے ہیں:
دانتوں کا گھس جانا یا ٹوٹ پھوٹ ،جبڑے کے جوڑ اور اردگرد کے پٹھوں میں دردتناؤ سے پیدا ہونے والا سر درد یا کان میں دردنیند میں خلل ،وقت گزرنے کے ساتھ یہ مسائل نہ صرف تکلیف دہ بلکہ علاج کے لحاظ سے مہنگے بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

ہم دانت کیوں پیستے ہیں؟

عموماً دانت پیسنے کی وجہ نفسیاتی، جسمانی اور طرزِ زندگی سے متعلق عوامل کا مجموعہ ہوتی ہے۔ ذہنی دباؤ، بے چینی یا ڈپریشن میں مبتلا افراد، بعض نفسیاتی ادویات استعمال کرنے والے، کیفین، نکوٹین یا الکحل کا زیادہ استعمال کرنے والے یا نیند کی خرابیوں کا شکار لوگ اس مسئلے کے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔

دانت پیسنے اور نیند کے دوران سانس رکنے (سلیپ اپنیا) کے درمیان بھی مضبوط تعلق پایا جاتا ہے، کیونکہ آکسیجن کی کمی تناؤ کے ہارمونز کے اخراج کا سبب بنتی ہے، جو پٹھوں کے سکڑاؤ کو بڑھا کر صریرِ اسنان کو شدت دے سکتی ہے۔

اکثر دانتوں کا ڈاکٹر دانتوں اور مسوڑھوں کے معائنے کے دوران صریرِ اسنان کی علامات کو پہچان لیتا ہے، جیسے دانتوں کا غیر معمولی گھس جانا، فلنگز میں دراڑیں پڑ جانا، گالوں کے اندر سفید نشانات کا بن جانا یا زبان کے کناروں پر لہریں سی پڑ جانا۔

اس کے علاوہ ڈاکٹر سر درد، جبڑے کے درد اور نیند کے معیار کے بارے میں بھی سوال کر سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق دانت پیسنا ایک قابلِ علاج مسئلہ ہے۔ علاج میں دانتوں کے تحفظ اور پٹھوں کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے نائٹ گارڈ کا استعمال، جبڑے اور اس کے جوڑ کے لیے فزیوتھراپی اور بنیادی وجوہات جیسے ذہنی دباؤ یا نیند کی خرابیوں کا علاج شامل ہو سکتا ہے۔

بعض صورتوں میں جبڑے کے پٹھوں کے کھچاؤ کو کم کرنے کے لیے بوٹوکس کے انجیکشن بھی دیے جاتے ہیں، تاہم یہ مستقل حل نہیں اور ہر فرد کے لیے موزوں بھی نہیں ہوتے۔

خلاصہ یہ کہ اگر آپ کو شک ہے کہ آپ دانت پیستے ہیں، تو ڈاکٹر یا دانتوں کے ماہر سے رجوع کرنا پہلا قدم ہے۔ علاج صرف علامات کم کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں بنیادی وجوہات پر قابو پانا بھی ضروری ہے، جیسے ذہنی دباؤ میں کمی، نیند کی عادات میں بہتری اور منبّھات کا محدود استعمال۔ یہ سادہ تبدیلیاں آپ کو درد سے بچا سکتی ہیں اور مستقبل میں مہنگے اور پیچیدہ علاج سے محفوظ رکھ سکتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size