بھرے پیٹ کے باوجود کھانے کی خواہش کیوں؟ ماہرین نے وجہ بتا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

ایک شخص کھانا کھا کر مکمل طور پر سیر ہو جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود خود کو کسی ہلکی پھلکی چیز جیسے پیسٹری یا مٹھائی کھانے کے لیے تیار پاتا ہے، جیسا کہ ویب سائٹ ''سائیکالوجی ٹوڈے'' میں بتایا گیا ہے۔

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ کھانے کی خواہش کی وجہ بھوک ہوتی ہے اور ایک حد تک یہ درست بھی ہے، کیونکہ جسم میں توانائی کے توازن کو برقرار رکھنے کا ایک نہایت پیچیدہ نظام موجود ہوتا ہے۔

جب جسم کو خوراک کی ضرورت ہوتی ہے، تو بھوک کے سگنلز بڑھ جاتے ہیں اور جب انسان سیر ہو جاتا ہے تو یہی سگنلز کھانے کی خواہش کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ لیکن جدید زندگی میں انسان کو ایسے عوامل نے گھیر رکھا ہے جن کے لیے اس کا جسم حیاتیاتی طور پر مکمل طور پر تیار نہیں۔

مثال کے طور پر ہر طرف کھانے کی ترغیب دینے والی چیزیںدلکش پیکنگ، اشتہارات، بیکریوں کی نمائش، ڈیلیوری ایپس کی تصاویر اور رات کے وقت فریج کی روشنی یہ سب انسان کو دوبارہ کھانے پر مائل کرتے ہیں۔

ایک حالیہ تحقیق جو جریدہ ''اپیٹائٹ ''میں شائع ہوئی، نے اس بات کا جائزہ لیا کہ لوگ ان محرکات کے سامنے آ کر زیادہ کھانے سے خود کو کیوں نہیں روک پاتے۔

تحقیق کے مطابق جب جسم سیر ہونے کا اشارہ دیتا ہے، تب بھی دماغ ان محرکات کو خوشگوار اور پرکشش سمجھنا بند نہیں کرتا۔

یہاں تک کہ جب انسان اتنا کھا چکا ہوتا ہے کہ کھانے کی کشش کم ہو جانی چاہیے، تب بھی دماغ کی ابتدائی ردِعمل میں خاص تبدیلی نہیں آتی۔ یوں دماغ کا ایک حصہ ''مزید کھاؤ'' کا سگنل دیتا رہتا ہے، چاہے جسم بس کافی ہے کا اشارہ دے چکا ہو۔

سیر ہونے کے باوجود مزید کھانے کی خواہش

اس تحقیق میں 90 یونیورسٹی طلبہ نے بھوک کی حالت میں مختلف کھانوں کی درجہ بندی کی اور ہر فرد کے لیے دو ملتے جلتے کھانے منتخب کیے گئے۔

تجربے کے درمیان میں شرکاء کو ان میں سے ایک کھانا اتنی مقدار میں کھلایا گیا کہ وہ مزید کھانے کے خواہش مند نہ رہے۔

یوں یہ کھانا کم قدر والا کھانا بن گیا، یعنی اس کی کشش کافی حد تک کم ہو گئی۔یہ بات بظاہر منطقی لگتی ہے، کیونکہ اگر کوئی شخص آلو کے چپس زیادہ مقدار میں کھا لے تو وہ کم پرکشش لگنے لگتے ہیں اور اسی طرح زیادہ کیک کھانے سے اس کی رغبت بھی کم ہو جاتی ہے۔

تحقیق نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ خود شرکاء نے اسی تجربے کی نشاندہی کی۔ کھانے کے بعد انہوں نے اس کھانے کو، جس سے وہ سیر ہو چکے تھے، کم دلکش قرار دیا۔

اسی طرح ان کے رویے میں بھی متوقع تبدیلی دیکھی گئی، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ کسی حد تک یہ سمجھ چکے تھے کہ اس کھانے کی پہلے جیسی کشش باقی نہیں رہی۔

تعلمِ تقویتی

جب طلبہ تعلّمِ تقویتی کے ایک کام میں مصروف تھے، تو ان کے سر کی جلد (اسکالپ) سے دماغی برقی سرگرمی کے تیز ردِعمل کو ریکارڈ کیا گیا۔

تحقیق میں خاص طور پر ایک سگنل پر توجہ دی گئی، جسے مثبت انعام (Reward Positivity) کہا جاتا ہے، جو عام طور پر دماغ کی جانب سے بہتر اور بدتر نتائج کے ابتدائی جائزے سے متعلق ہوتا ہے۔

اہم سوال یہ تھا کہ کیا یہ سگنل اُس وقت کم ہو جائے گا، جب شرکاء اُس کھانے کی تصاویر دیکھیں گے ،جسے وہ ابھی کھا کر سیر ہو چکے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ دماغ بدستور کھانے کی ترغیب دیتا رہا، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب جسم سیر ہونے کا احساس کر چکا تھا۔

انعام کی توقع

کھانا کھانے سے پہلے کھانے کی تصاویر دماغ میں انعام سے جڑی ایک واضح ردِعمل پیدا کرتی تھیں۔ مگر کھانے کے بعد بھی یہ ابتدائی اعصابی ردِعمل برقرار رہا، حتیٰ کہ اُس کھانے کے لیے بھی جسے شرکاء نے زیادہ مقدار میں کھا لیا تھا۔

دوسرے لفظوں میں شرکاء کے انتخاب اور جائزوں سے ظاہر ہوا کہ کھانے کی قدر کم ہو گئی ہے، لیکن دماغ کا ابتدائی سگنل اس تبدیلی کو ظاہر نہیں کرتا تھا۔ یعنی انسان کا شعور یہ جان لیتا ہے کہ اب یہ کھانا اتنا اہم نہیں رہا، مگر دماغ کا ایک تیز اور خودکار حصہ اب بھی اس پر ایسے ردِعمل دیتا ہے، جیسے یہ اب بھی انعام کا باعث ہو۔

زیادہ کھانے کی عادت

یہ تحقیق کھانے کے ایک نہایت پریشان کن پہلو کو سمجھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ زیادہ کھانا ہمیشہ صرف قوتِ ارادی کی کمزوری نہیں ہوتا، بلکہ اس کا آغاز اس لمحے سے ہوتا ہے، جب کوئی اشارہ اچانک دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے، اس سے پہلے کہ شعوری کنٹرول کو ردِعمل دینے کا موقع ملے۔

سیکھے گئے اشاروں کی کشش

کھانے کا اشارہ خود کھانا نہیں ہوتا، بلکہ یہ کسی تصویر، خوشبو، پیکٹ کے کھلنے کی آواز کسی برانڈ کے لوگو یا میز پر رکھی کسی جانی پہچانی چیز کی صورت میں ہو سکتا ہے۔

بار بار کے تجربے سے یہ اشارے مضبوط ہو جاتے ہیں اور اس انعام کا متبادل بن جاتے ہیں، جس کی انسان توقع کرتا ہے۔

نفسیات کی زبان میں یہ اشارے سیکھے ہوئے(Learned cues) بن جاتے ہیں اور روزمرہ زندگی میں یہ ایسی کشش اختیار کر لیتے ہیں، جو بظاہر انسان کے شعور پر غالب آتی محسوس ہوتی ہے۔

زیادہ مصروف اور بھرا ہوا غذائی ماحول

ہمارے آبا و اجداد ایسی دنیا میں نہیں رہتے تھے ،جہاں فوڈ ڈیلیوری ایپس، سپر مارکیٹوں کی قطاریں اور توجہ کھینچنے کے لیے تیار کی گئی اعلیٰ معیار کی کھانے کی تصاویر موجود ہوں۔

آج انسان ایسے ماحول میں رہتا ہے ،جو مختلف اشاروں سے بھرا ہوا ہے اور یہ سب اس طرح بنائے گئے ہیں کہ فوراً نظر آئیں اور یاد رہیں۔

اس تحقیق کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ یہ اشارے حیاتیاتی ضرورت پوری ہونے کے بعد بھی اپنا اثر برقرار رکھ سکتے ہیں۔

کھانے کی ایک تصویر ماضی کے خوشگوار تجربات کو زندہ کر سکتی ہے اور پیٹ بھر جانے کے باوجود پرانی وابستگیوں کو جگا سکتی ہے۔

اگر یہ بات درست ہو تو زیادہ کھانا صرف بھوک کے دماغ پر غالب آنے کا نتیجہ نہیں، بلکہ بعض اوقات اس کے برعکس بھی ہوتا ہے،یعنی شعور تو یہ سمجھ لیتا ہے کہ کھانے کی اہمیت ختم ہو چکی ہے، مگر دماغ کا ایک پرانا اور تیز نظام اپنا کام جاری رکھتا ہے۔

اسی لیے اصل چیلنج صرف یہ سیکھنا نہیں کہ کب کھانا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ ایسے ماحول میں کیسے جیا جائے جہاں ہر طرف موجود اشارے مسلسل انعام کا احساس دلاتے رہتے ہیں، چاہے جسم کو مزید خوراک کی ضرورت نہ ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size