خبردار "AI" خاموشی سے آپ کی نگرانی کر رہی ہے... اپنی معلومات اور ڈیٹا کیسے محفوظ بنائیں ؟
دنیا منظم ڈیجیٹل ٹریکنگ کے ایک ایسے مرحلے کا سامنا کر رہی ہے جس کی پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی
انتہائی تیز رفتار ڈیجیٹل دور میں رازداری کا تحفظ اب محض ایک تکنیکی انتخاب نہیں رہا، بلکہ یہ ڈیجیٹل قومی سکیورٹی کا ایک اہم معاملہ بن چکا ہے۔
بڑی ڈیجیٹل کمپنیوں (Platfoms) کی جانب سے اپنے اسمارٹ ماڈلز کو تیار کرنے کے لیے صارفین کے ڈیٹا پر انحصار کے ساتھ ہی یہ اہم سوال سامنے آتا ہے:
اس سے پہلے کہ آپ کی ڈیجیٹل زندگی الگورتھم کی مارکیٹ میں بکنے والا مال بن جائے، آپ اس کی حفاظت کیسے کر سکتے ہیں؟
دوسری جانب عرب مرکز برائے ریسرچ اینڈ اسٹڈیز میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور سائبر سکیورٹی یونٹ کے سربراہ ڈاکٹر محمد محسن رمضان نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" اور "الحدث ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے باور کرایا کہ دنیا منظم ڈیجیٹل ٹریکنگ کے ایک ایسے مرحلے کا سامنا کر رہی ہے جس کی پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی۔ یہاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی ایپلی کیشنز انسانی رویے کا تجزیہ کرنے اور اپنے ماڈلز کو تربیت دینے اور ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے متنی، صوتی اور بصری ڈیٹا کی بہت بڑی مقدار جمع کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ڈاکٹر رمضان نے واضح کیا کہ اصل خطرہ ڈیفالٹ سیٹنگز سے لاعلمی میں چھپا ہے، کیونکہ زیادہ تر صارفین اس بات سے واقف ہی نہیں ہیں کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی ایپلی کیشنز اپنے مستقبل کے نظام کو تیار کرنے کے لیے ان کی گفتگو اور فائلوں کو خودکار طور پر استعمال کرتی ہیں، جس سے صارف آہستہ آہستہ بڑی تکنیکی کمپنیوں کے لیے مفت ڈیٹا کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کمپنیاں اب صرف براہ راست معلومات پر ہی اکتفا نہیں کرتیں، بلکہ وہ پیش گوئی کے تجزیے (Predictive Analysis) پر انحصار کرنے لگی ہیں۔ یہ ایک ایسا طریقہ ہے جو الگورتھم کو صارف کی روزمرہ کی ڈیجیٹل سرگرمی کی بنیاد پر اس کے مستقبل کے فیصلوں، دل چسپیوں اور رویے کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حفاظت کی اصل چابی ان سمارٹ ماڈلز کی تربیت میں ڈیٹا کے استعمال کی خصوصیت کو بند کرنے سے شروع ہوتی ہے، جو کہ ایک ناگزیر سکیورٹی ضرورت ہے۔
دوسری طرف انفارمیشن سکیورٹی کے لیے سابق اسسٹنٹ وزیر داخلہ میجر جنرل محمود الرشیدی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" اور "الحدث ڈاٹ نیٹ" کو دیے گئے اپنے خصوصی بیان میں مشہور ایپلی کیشنز کے اندر ڈیٹا کے استحصال کو روکنے کے لیے ایک عملی لائحہ عمل پیش کیا ہے۔ اس کی شروعات "چیٹ جی پی ٹی" ایپلی کیشن کے اندر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی تربیت کو روکنے سے ہوتی ہے، جس کے لیے سیٹنگز میں جا کر ڈیٹا کنٹرولز کے ذریعے سب کے لیے ماڈل کی بہتری کے آپشن کو بند کرنا ہو گا، جبکہ حساس یا پیشہ ورانہ معلومات سے نمٹتے وقت عارضی گفتگو (Temporary Chats) کے استعمال کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
میجر جنرل الرشیدی نے "گوگل جیمنائی" کے استعمال کو بھی محدود کرنے کی دعوت دی، جس کے لیے اکاؤنٹ کی سیٹنگز میں جا کر سرگرمی اور گفتگو کو محفوظ کرنے کے عمل کو روکا جائے اور حساس معلومات کو برقرار رکھنے سے روکنے کے لیے پرانی ہسٹری کو مستقل طور پر حذف کیا جائے۔
"مائیکروسافٹ کوپائلٹ" کے اندر ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے لیے میجر جنرل الرشیدی نے مشورہ دیا کہ پرائیویسی سیٹنگز کا رخ کیا جائے اور تشخیصی ڈیٹا کی شیئرنگ اور سمارٹ سروسز کی بہتری کے آپشن کو بند کیا جائے، ساتھ ہی ونڈوز یا آفس سسٹم سے منسلک ایپلی کیشنز کی اجازتوں (Permissions) کا جائزہ لیا جائے۔
سوشل میڈیا کے حوالے سے سابق اسسٹنٹ وزیر داخلہ نے میٹا کے الگورتھم کو بلاک کرنے کی اہمیت پر زور دیا، جس کے لیے اس کی ایپلی کیشنز کے اندر پرائیویسی سینٹر میں جا کر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی تربیت میں پوسٹس اور تصاویر کے استعمال پر اعتراض درج کرایا جائے اور تصاویر کو ڈیپ فیک (Deepfake) ٹیکنالوجی میں استعمال ہونے سے بچانے کے لیے پوسٹس کے پبلک ظہور کو کم کیا جائے۔
انہوں نے مکمل سکیورٹی کے لیے مزید پیشہ ورانہ اقدامات اٹھانے پر زور دیا جن میں کام کی خفیہ فائلیں، معاہدے یا بینک کا ڈیٹا کسی بھی پبلک چیٹ بوٹ پر اپ لوڈ نہ کرنا، آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی ایپلی کیشنز کے لیے ایک الگ ای میل مختص کرنا، ایسے براؤزرز کا استعمال کرنا جو ٹریکنگ ٹولز اور سمارٹ اشتہارات کو بلاک کرتے ہیں اور مائیکروفون، کیمرہ اور جغرافیائی مقام کی اجازتوں کا مسلسل جائزہ لینا شامل ہے۔
انہوں نے اسمارٹ گفتگو کے لنکس شیئر کرنے کے خلاف بھی خبردار کیا کیونکہ وہ پبلک ہو سکتے ہیں اور سرچ انجنوں کے ذریعے آرکائیو کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ بڑے اداروں اور سکیورٹی ماہرین نے پہلے ہی ایسے مقامی آرٹیفیشل انٹیلیجنس ماڈلز کے استعمال کی طرف بڑھنا شروع کر دیا ہے جو کلاؤڈ کنکشن کے بغیر آلات کے اندر کام کرتے ہیں تاکہ ڈیٹا لیک ہونے کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔
میجر جنرل الرشیدی نے اپنے بیان کے اختتام پر ڈیجیٹل دست برداری (Digital Surrender) کے رجحان سے خبردار کیا۔ جہاں بہت سے لوگ پڑھے یا سمجھے بغیر استعمال کی شرائط سے اتفاق کر لیتے ہیں۔ اس سے کمپنیوں کو ڈیٹا کا تجزیہ کرنے اور اس کا تجارتی و تکنیکی استحصال کرنے کے وسیع اختیارات مل جاتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آنے والا مرحلہ ڈیٹا کی ملکیت اور ڈیجیٹل پرائیویسی پر ایک عالمی تصادم کا شاہد ہو گا کیونکہ ڈیٹا جدید ڈیجیٹل معیشت کا سب سے مہنگا اثاثہ اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا اصل ایندھن بن چکا ہے۔
-
آم کو دیر تک ترو تازہ رکھنے کے لیے 12 ڈگری درجہ حرارت مثالی قرار
آم تیزی سے پکتا اور سٹوریج اور نقل و حمل کے دوران خراب اور ضائع ہونے کے خطرے سے ...
ایڈیٹر کی پسند -
زمین سے بعید ترین نقطے پر نیلا اور چھوٹا چاند دیکھنے کےلیے تیار ہو جائیں
مکمل چاند زمین سے بعید ترین نقطے پر ہو گا اور سال کا سب سے چھوٹا چاند نظر آئے گا
ایڈیٹر کی پسند -
داعش سے وابستہ 19 خواتین اور بچوں کا قافلہ آسٹریلیا پہنچے گا
متعدد کو مقدمات کا سامنا کرنے کا اندیشہ
بين الاقوامى