جذباتی طور پر مستحکم تعلقات والے جوڑوں کی پانچ نمایاں سرگرمیاں

یہ جوڑے مستقل طور پر ایسے طریقے اپناتے ہیں جو تحفظ کے احساس کو تقویت دیتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

بہت سے لوگ یہ فرض کر لیتے ہیں کہ جذباتی استحکام کا مطلب حسد، بحث و تکرار یا اپنی اہمیت پر شک نہ ہونا ہے۔ تاہم یاد رہے وہ جوڑے جن کے تعلقات جذباتی طور پر مستحکم ہوتے ہیں، وہ باہمی اعتماد کھوئے بغیر مشکلات پر قابو پانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ امریکی نیٹ ورک ’’ سی این بی سی ‘‘ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ ، جسے تعلقات کے ماہر اور سینئر ماہرِ نفسیات پروفیسر مارک ٹراورس نے تیار کیا ہے، میں بتایا گیا ہے کہ جذباتی طور پر مستحکم جوڑے تناؤ یا غیر یقینی صورتحال کے اوقات میں بھی انفرادی طور پر یا مل کر مستقل طور پر ایسے کام کرتے ہیں جو تحفظ کو فروغ دیتے ہیں۔ وہ باقاعدگی سے درج ذیل پانچ کام کرتے ہیں:

1. اختلافات کا ہمیشہ حل نکالنا

جذباتی طور پر مستحکم جوڑے بحث کرتے ہیں اور بعض اوقات یہ بحث کافی پرجوش بھی ہوتی ہے۔ درحقیقت تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ وہ اس میں ماہر ہوتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ وہ مسائل کو نظر انداز نہیں کرتے اور نہ ہی غیر معینہ مدت کے لیے پیچھے ہٹتے ہیں۔ اس کے بجائے وہ بہادری سے مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، مجروح جذبات کا اعتراف کرتے ہیں، غلطیوں کو تسلیم کرتے ہیں اور اختلاف کی الجھن کو برداشت کرتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اس کے بعد ہمیشہ اپنے رویے کی اصلاح کرتے ہیں۔ کسی بھی اختلاف کو واقعی ختم کرنے کے لیے میاں بیوی دونوں کا یہ محسوس کرنا ضروری ہے کہ انہیں سنا گیا ہے اور ان کا احترام کیا گیا ہے۔

2. ایک دوسرے کو آزادی دینا

جذباتی طور پر مستحکم جوڑے بغیر کسی احساسِ جرم کے اپنی عملی زندگی کے اہداف کے حصول سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اعتماد تب بڑھتا ہے جب قربت اور خود مختاری ایک ساتھ ہوں۔ جذباتی طور پر مستحکم جوڑے یہ بات سمجھتے ہیں کہ انفرادیت کشش اور توانائی کو جلا بخشتی ہے جس سے ان کا ایک ساتھ گزارا ہوا وقت مزید بھرپور اور ثمر آور ہو جاتا ہے۔

3. جذبات کا اظہار کرنا

غیر مستحکم تعلقات میں جوڑے اکثر یہ فرض کر لیتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ دوسرا کیا سوچ رہا ہے۔ مثال کے طور پر وہ کہتے ہیں کہ تم دور دور اس لیے ہو کیونکہ تمہیں پرواہ نہیں۔ یا تم اس لیے ناراض ہو کیونکہ میں نے تمہارے مشورے پر عمل نہیں کیا۔ اس سے غلط فہمیاں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ جذباتی طور پر مستحکم جوڑے اس رجحان کے خلاف مزاحمت کی کوشش کرتے ہیں۔ جب ان میں سے ایک پریشان نظر آتا ہے تو دوسرا سوال کرتا ہے اور پھر اسے سنتا ہے۔ وہ پوچھتے ہیں، سنتے ہیں اور جوابات پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اس لیے انہیں لفظوں کے پیچھے چھپے معنی تلاش کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

4. اکتاہٹ کے لیے گنجائش پیدا کرنا

یہ ضروری نہیں کہ ایک صحت مند رشتے کا ہر مرحلہ جوش و خروش سے بھرا ہو۔ کام کا دباؤ اور ذمہ داریاں زندگی کو یکساں بنا سکتی ہیں۔ جذباتی طور پر غیر محفوظ جوڑوں میں یہ یکسانیت خوف یا محبت کی چنگاری ختم ہونے کا شک پیدا کر سکتی ہے۔ جہاں تک جذباتی طور پر پراعتماد جوڑوں کا تعلق ہے، وہ جانتے ہیں کہ جب کبھی وہ یکسانیت محسوس کریں تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ اس استحکام کو جمود کے بجائے تحفظ کی علامت سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ محبت ہمیشہ ہیجانی کیفیت کا نام نہیں ہے۔

5. ایک دوسرے کو تسلی دینا

جذباتی طور پر پراعتماد لوگوں سمیت ہر کوئی غیر یقینی صورتحال کے لمحات سے گزرتا ہے لیکن مستحکم تعلقات والے لوگ ایک دوسرے پر بار بار "کیا تم مجھ سے پیار کرتے ہو؟" جیسے سوالات کی بوچھاڑ نہیں کرتے اور نہ ہی فوری تسلی نہ ملنے پر احتجاجاً دوری اختیار کرتے ہیں۔ بلکہ وہ اپنے افعال پر بھروسہ کرتے ہیں۔

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کی گئی کوشش کسی کے تصور سے کہیں زیادہ اہم ہوتی ہے۔ اسی لیے جذباتی طور پر پراعتماد جوڑے ایک دوسرے کی کوششوں پر خاص توجہ دیتے ہیں۔ وہ رویے اور زبان میں مستقل مزاجی کو نوٹ کرتے ہیں۔ اگرچہ زیادہ تر دنوں میں کوششیں برابر تقسیم نظر آتی ہیں لیکن دوسرے دنوں میں یہ دباؤ کے لحاظ سے 60/40 یا 70/30 کے تناسب میں ہو سکتی ہیں۔ لیکن جو چیز برقرار رہتی ہے وہ ہے اپنی بہترین کوشش کرنے کا عزم۔ وہ اس بات پر بھروسہ کرتے ہیں کہ محبت رویے سے ظاہر ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size