انسانی ذہن کی صلاحیتیں دو مرحلوں میں نکھرتی ہیں، ماہرین
ماہرینِ نفسیات انسانی سوچ کو عموماً رفتار اور ذہنی محنت کی بنیاد پر دو مختلف اقسام میں تقسیم کرتے ہیں۔
بالغ افراد میں عموماً زیادہ ادراکی صلاحیتیں درست وجدان (intuition) کی پیش گوئی کرتی ہیں، تاہم یہ ذہنی اختصار وقت کے ساتھ ترقی کرتا ہے۔
ایک نئی تحقیق جس میں مڈل اور ہائی اسکول کے طلبہ شامل تھے، یہ ظاہر کرتی ہے کہ نوجوان منطقی پہیلیاں حل کرنے کے لیے زیادہ تر سوچ سمجھ کر اور آہستہ طریقۂ فکر پر انحصار کرتے ہیں، یہاں تک کہ ان کا درست وجدان مکمل طور پر پختہ ہو جائے۔
تحقیق کے مطابق جو حال ہی میں جریدے Thinking Reasoning میں شائع ہوئی، ماہرینِ نفسیات انسانی سوچ کو عام طور پر رفتار اور ذہنی محنت کی بنیاد پر دو واضح اقسام میں تقسیم کرتے ہیں۔
پہلی قسم تیز اور خودکار سوچ ہے، جس میں کم ذہنی توانائی درکار ہوتی ہے۔ دوسری قسم آہستہ، غور و فکر پر مبنی سوچ ہے، جو تفصیلات پر مسلسل توجہ کا تقاضا کرتی ہے۔
کئی دہائیوں تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ ریاضیاتی یا منطقی مسائل کو حل کرنے کے لیے ہمیشہ دوسری یعنی سست اور غور طلب سوچ ضروری ہوتی ہے۔
اس روایتی نظریے کے مطابق فوری اندازے اکثر غلط یا تعصبات پر مبنی ہوتے ہیں اور درست نتیجے تک پہنچنے کے لیے ابتدائی وجدان کو روک کر حساب کتاب کے ذریعے حل نکالنا ضروری ہوتا ہے۔
ذہین وجدان رکھنے والے افراد
حالیہ مطالعے نے بالغ افراد میں منطقی سوچ سے متعلق اس مفروضے کو چیلنج کیا ہے۔ سائنس دانوں نے پایا ہے کہ بہت سے بالغ افراد تقریباً فوراً درست اور منطقی جوابات دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور انہیں بنیادی احتمالات کے مسائل حل کرنے کے لیے طویل غور و فکر کی ضرورت نہیں پڑتی۔
اس کیفیت کو عموماً عمومی ذہانت (general intelligence) سے جوڑا جاتا ہے۔ جو بالغ افراد ادراکی صلاحیتوں کے ٹیسٹ میں زیادہ اسکور حاصل کرتے ہیں، ان کا ابتدائی وجدان زیادہ درست ہوتا ہے۔
ذہانت اور فوری درستگی کے اس باہمی تعلق کی بنیاد پر محققین نے انہیں ''ذہین وجدان رکھنے والے افراد'' کا نام دیا ہے۔
نوعمر نوجوانوں کی سوچنے کی مہارتیں
ماہرینِ نفسیات کی ایک ٹیم یہ جاننا چاہتی تھی کہ درست وجدان (intuition) کی صلاحیت کس عمر میں نشوونما پاتی ہے۔
اس تحقیق کی مرکزی محققہ لورا شاربیٹ اور ان کے ساتھیوں نے فرانس کی ''یونیورسٹی آف پیرس سٹی'' میں ایک تجربہ ڈیزائن کیا، جس کا مقصد نوعمری کے دوران سوچنے کی مہارتوں کا جائزہ لینا تھا۔ وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ آیا مڈل اور ہائی اسکول کے طلبہ پہلے ہی بالغ افراد جیسی ذہنی پختگی کی علامات ظاہر کرتے ہیں یا نہیں۔
تحقیقی ٹیم نے فرانسیسی ہائی اسکولوں سے 300 سے زائد طلبہ کو شامل کیا۔ تقریباً نصف شرکاء ساتویں جماعت کے تھے، جن کی اوسط عمر 12 سال کے قریب تھی، جبکہ باقی نصف بارہویں جماعت کے طلبہ تھے ،جو اپنی ثانوی تعلیم کے آخری مراحل میں تھے اور ان کی اوسط عمر تقریباً 17 سال تھی۔
احتمالاتی پہیلیاں
طلبہ کی سوچنے کے طریقہ کار کو جانچنے کے لیے محققین نے انہیں احتمال پر مبنی کئی پہیلیاں دیں۔ ان پہیلیوں کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا تھا کہ وہ ایک طرف اعداد و شمار کی حقیقت اور دوسری طرف پرکشش مگر گمراہ کن سماجی تصور کے درمیان تضاد پیدا کریں۔
مثال کے طور پر شرکاء کو ایک ایسے مطالعے کے بارے میں بتایا گیا جس میں 995 اکاؤنٹنٹس اور صرف پانچ مسخرے شامل تھے۔
اس کے بعد طلبہ سے کہا گیا کہ وہ اس مطالعے سے بے ترتیب طور پر منتخب کیے گئے ایک شخص جسے ''شخص L ''کہا گیا، کے بارے میں اندازہ لگائیں۔
سوال میں'' شخص L ''کو ایک لفظ میں ''مضحک'' (funny) قرار دیا گیا تھا۔ اس بنیاد پر فوری اور سطحی تاثر یہ بنتا تھا کہ شاید وہ شخص مسخرہ ہے۔لیکن ریاضیاتی طور پر دیکھا جائے تو امکان اس کے برعکس تھا۔
گروپ میں مسخروں کے مقابلے میں اکاؤنٹنٹس کی تعداد 199 گنا زیادہ تھی، اس لیے بے ترتیب طور پر منتخب کیا گیا شخص زیادہ امکان کے ساتھ اکاؤنٹنٹ ہی ہوگا، چاہے اس میں مزاح کی خصوصیات موجود ہوں۔
تجربے کے پہلے مرحلے میں طلبہ کو صرف تین سیکنڈ یا اس سے کم وقت میں جواب دینا تھا۔ابتدائی جواب دینے کے بعد طلبہ کو وہی پہیلی دوبارہ دکھائی گئی۔
اس دوسرے مرحلے میں انہیں لامحدود وقت دیا گیا تاکہ وہ اپنے پہلے جواب پر دوبارہ غور کر سکیں اور چاہیں تو اسے تبدیل بھی کر سکیں۔
ورایتی سوچ کا جال
نتائج کا جائزہ لینے پر محققین کو دونوں عمر کے گروہوں میں واضح فرق نظر آیا۔ بڑے عمر کے نوعمر طلبہ نے فوری اور حدسی مرحلے میں چھوٹے طلبہ کے مقابلے میں زیادہ درست ریاضیاتی جوابات دیے۔
وقت کی شدید پابندی اور ذہنی دباؤ کے دوران بڑے طلبہ اعداد و شمار کو بہتر طور پر استعمال کرنے میں کامیاب رہے اور وہ عام سماجی اندازوں یا نمونہ جاتی سوچ کے جال میں نہیں پھنسے۔
جب طلبہ کو اضافی وقت دیا گیا تو ان کے نتائج عمر کے لحاظ سے مختلف رہے۔ساتویں جماعت کے طلبہ میں کوئی نمایاں بہتری نہیں دیکھی گئی، ان کے نتائج فوری اور سوچنے والے دونوں مراحل میں تقریباً یکساں رہے۔
اضافی وقت بھی انہیں درست ریاضیاتی نتیجے تک نہیں لے جا سکا۔چھوٹے طلبہ کی کارکردگی میں بہتری نہ آنا ایک اہم اشارہ سمجھا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے پاس ابھی وہ بنیادی ذہنی حکمتِ عملیاں مکمل طور پر موجود نہیں، جو عام سماجی یا سطحی اندازوں پر قابو پا سکیں۔
حتیٰ کہ جب انہیں لامحدود وقت بھی دیا گیا، تب بھی ان کا ذہن اکثر سادہ بیانیے اور کہانی نما تاثر کی طرف ہی مائل رہا۔
بتدریج بہتری
محققین کے مطابق یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منطقی اصولوں میں بہتری ایک تدریجی عمل ہے۔ جب بچے پہلی بار کسر اور احتمالات جیسے تصورات سیکھتے ہیں ،تو ان کا اطلاق کرنے کے لیے انہیں شدید ذہنی محنت درکار ہوتی ہے۔ جیسے جیسے وہ مڈل اور ہائی اسکول کے مراحل میں آگے بڑھتے ہیں، انہیں ہزاروں گھنٹوں کی تعلیمی مشق حاصل ہوتی ہے۔طویل عرصے تک بار بار مشق کے نتیجے میں منطقی قواعد رفتہ رفتہ فطری بننے لگتے ہیں۔
بارہویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے طلبہ ان تصورات کو بہتر طور پر سمجھنے لگتے ہیں، جس سے ان کے وجدان میں معمولی بہتری پیدا ہوتی ہے، تاہم یہ تبدیلی مکمل نہیں ہوتی بلکہ جاری رہتی ہے۔
محققین نے نتیجہ اخذ کیا کہ فوری اور عقلی جواب دینے کی صلاحیت اچانک پیدا نہیں ہوتی۔
تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ درست فیصلہ سازی ایک ایسی مہارت ہے ،جو تعلیم اور زندگی کے تجربات کے ساتھ برسوں میں آہستہ آہستہ ترقی کرتی ہے۔