ورچوئل پنکھوں کے ساتھ اڑنا سیکھنا بھی انسانی دماغ کو بدل دیتا ہے: تحقیق

ورچوئل پنکھ استعمال کرنے کی تربیت دینے کے بعد شرکا کے دماغوں نے پنکھوں پر اسی طرح ردِعمل ظاہر کیا جس طرح وہ حقیقی اعضاء پر ظاہر کرتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سائنسدان ابھی تک کامک بکس کی دنیا سے انسان کے پنکھوں کے ساتھ اڑنے کے تصور کو ٹھوس حقیقت میں تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں لیکن ورچوئل رئیلٹی اڑنا سیکھنے جیسی جھلکیاں پیش کرتی ہے۔ سائنس نیوز کی جانب سے جرنل سیل رپورٹس کے حوالے سے شائع کردہ رپورٹ کے مطابق شرکاء کے ایک گروپ کو ورچوئل پنکھ استعمال کرنے کی تربیت دینے کے بعد ان کے دماغوں نے پنکھوں پر اسی طرح ردِعمل ظاہر کیا جس طرح وہ حقیقی اعضاء پر ظاہر کرتے ہیں۔ اس تربیت سے پنکھ جسم کے حصوں کے زیادہ قریب محسوس ہونے لگے۔

انگلینڈ کے شہر کیمبرج میں اینگلیا رسکن یونیورسٹی کی علمی نیورو سائنٹسٹ جین ایسپیل کہتی ہیں کہ یہ ایک دلچسپ تحقیق ہے جو واضح طور پر دکھاتی ہے کہ دماغ کتنا لچکدار ہے، اگر دماغ پنکھ جیسی کسی غیر انسانی چیز کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو شاید وہ مصنوعی اعضاء کی بہت سی دوسری اقسام کو بھی جذب کرنے کے قابل ہو سکتا ہے۔

حیرت انگیز

یہ تحقیق اس لیے شروع ہوئی کیونکہ پیکنگ یونیورسٹی کی علمی نیورو سائنٹسٹ ینچاؤ بی، جنہوں نے ہمیشہ اکیلے اڑنے کا خواب دیکھا تھا، نے کہا کہ یہ حیرت انگیز ہو گا۔ انسان کی پوری دنیا بدل جائے گی۔ ینچاؤ بی نے اپنی یہ خواہش یونیورسٹی میں موٹر کنٹرول لیبارٹری کے سربراہ کونلن وی کے ساتھ کافی پینے کے دوران شیئر کی۔ کونلن وی کی لیبارٹری طویل عرصے سے ورچوئل رئیلٹی ٹیکنالوجی کا استعمال یہ مطالعہ کرنے کے لیے کر رہی ہے کہ انسان حرکت کو کیسے محسوس کرتا ہے۔ اس گفتگو نے سوالات پیدا کیے ہیں کہ کیا انسان ورچوئل رئیلٹی میں پنکھوں کے ساتھ اڑنا سیکھ سکتا ہے؟ اور اس کا دماغ کیسے بدلے گا؟

پرندوں کے اڑنے کے طریقہ کار

ان سوالات کے جوابات حاصل کرنے کے لیے، ان کے ساتھی، نیورو سائنٹسٹ ییانگ کائی نے پرندوں کے اڑنے کے طریقہ کار پر مبنی ایک ہفتے کا تربیتی پروگرام تیار کیا۔ شرکاء نے ورچوئل رئیلٹی چشمے اور موشن ٹریکنگ ڈیوائسز پہنیں اور ایک ورچوئل آئینے میں دیکھا جہاں انہوں نے خود کو زنگ آلود رنگ کے بڑے پنکھوں والے پرندوں جیسی شکلوں میں دیکھا۔ جب انہوں نے اپنی کلائیاں ہلائیں اور اپنے بازو پھڑپھڑائے تو پنکھ بھی حرکت کرنے لگے۔

افعال کے ایک سلسلے کے ذریعے پچیس شرکاء نے آہستہ آہستہ اپنے ورچوئل پنکھوں کو استعمال کرنا سیکھا۔ وہ گرتی ہوئی ہوا کے غباروں کو دور بھگانے، کھڑی چٹانوں پر اڑتے رہنے اور یہاں تک کہ ہوا میں موجود حلقوں کے ذریعے خود کو راستہ دکھانے کے قابل ہو گئے۔ بیجنگ نارمل یونیورسٹی کے نیورو سائنٹسٹ زیی شیونگ کہتے ہیں کہ کچھ شرکاء نے پہلی ہی کوشش میں اڑنا سیکھ لیا جبکہ دوسروں کو تین یا چار سیشنز کی ضرورت پڑی۔ لیکن ان کی بہتری واضح تھی۔

اوپری اعضاء جیسا ہی ردِعمل

تربیت کے بعد محققین نے دریافت کیا کہ شرکاء کے ویژول کورٹیکس کے حصے، جو دماغ کا وہ حصہ ہے جو عام طور پر جسم کے حصوں کی تصاویر پر ردِعمل ظاہر کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے، مختلف پنکھوں کی تصاویر پر زیادہ مضبوطی سے ردِعمل ظاہر کرنے لگے۔ پنکھوں پر اس کا ردِعمل اس کے اوپری اعضاء یعنی بازووں پر ردِعمل سے مشابہت رکھنے لگا۔ انہوں نے بتایا کہ شرکاء پنکھوں کو اپنے جسم کا حصہ سمجھنے لگےجو یہ ظاہر کرتا ہے کہ دماغ کی لچک کی حدود، یعنی سیکھنے اور تجربے کے جواب میں خود کو دوبارہ منظم کرنے کی اس کی صلاحیت، اس سے کہیں زیادہ وسیع ہو سکتی ہے جتنا پہلے سوچا گیا تھا۔

محض نظریاتی علم سے آگے بڑھنا

کونلن وی نے کہا ہے کہ اس تجربے نے دماغ کی ازسرِ نو تشکیل کی اور براہ راست شرکاء کے اڑنے کے فہم کو ان طریقوں سے بدل دیا جو محض نظریاتی علم حاصل نہیں کر سکتا۔ اس کا اطلاق دیگر ٹیکنالوجیز اور مصنوعی حواس پر کیا جا سکتا ہے جس سے لوگ زیادہ متنوع طریقوں سے حقیقت کا تجربہ کر سکیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size