1967 کا تاریخی معاہدہ، خلا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک رکھنے کا عالمی وعدہ
سپوتنک 2 کی خلائی پرواز اور کیوبا میزائل بحران کے بعد خلا کے ممکنہ فوجی استعمال پر اقوامِ متحدہ کی تشویش میں نمایاں اضافہ ہوا
دوسری جنگِ عظیم کے دوران دنیا نے پہلی بار بیلسٹک میزائلوں کا ظہور دیکھا، جب جرمنی نے وی-2 (V-2) میزائل تیار کیا، جس کی مار تقریباً 320 کلومیٹر تھی اور اسے برطانوی شہروں پر بڑے پیمانے پر حملوں کے لیے استعمال کیا گیا۔جنگ کے خاتمے کے بعد امریکا اور سوویت یونین نے ان میزائلوں کی ایک بڑی تعداد اپنے قبضے میں لے لی۔
اس کے علاوہ دونوں طاقتوں نے جرمن راکٹ پروگرام سے وابستہ سائنس دانوں کو بھی اپنے ساتھ کام کرنے پر آمادہ کیا، تاکہ وہ اپنی میزائل اور خلائی صلاحیتوں کو ترقی دے سکیں۔
اگلے برسوں میں امریکا اور سوویت یونین نے ایسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار کر لیے، جن کی رینج ہزاروں کلومیٹر تک پہنچ گئی۔
بعد ازاں انہی ٹیکنالوجیز کو خلائی پروگراموں میں استعمال کیا گیا، جہاں سرد جنگ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان خلا اور چاند تک پہنچنے کی دوڑ شروع ہو گئی۔
1957 میں سوویت یونین نے سپوتنک 2 کو خلا میں بھیجا، جس نے دنیا بھر کو حیرت میں ڈال دیا۔ تاہم اس پیش رفت نے واشنگٹن میں تشویش بھی پیدا کی، کیونکہ امریکا کو خدشہ تھا کہ سوویت یونین مستقبل میں خلا میں جوہری ہتھیار بھی بھیج سکتا ہے۔
سرد جنگ کے دوران خلا کی دوڑ
1960 کی دہائی تک امریکا اور سوویت یونین کے درمیان کشیدگی غیر معمولی حد تک بڑھ چکی تھی، یہاں تک کہ تیسری عالمی جنگ کے خدشات جنم لینے لگے تھے۔
اس دور میں ماسکو نے مشرقی جرمنی کے شہریوں کی مغربی جرمنی کی جانب ہجرت روکنے کے لیے دیوارِ برلن کی تعمیر کی حمایت کی، جس پر مغربی بلاک میں شدید ناراضی پائی گئی۔
1962 میں کیوبا میزائل بحران نے دنیا کو خوف میں مبتلا کر دیا۔ اس بحران کے دوران امریکا اور سوویت یونین کے درمیان براہِ راست جنگ چھڑنے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔
اسی عرصے میں ویتنام جنگ بھی شدت اختیار کر گئی اور امریکا نے اس تنازع میں اپنی براہِ راست مداخلت شروع کر دی۔سرد جنگ اور امریکا،سوویت رقابت کے تناظر میں 1960 کی دہائی کے دوران دونوں طاقتوں نے خلا سے متعلق فوجی تحقیقات کا آغاز کیا۔
ان تحقیقات کا مرکز جاسوسی کے لیے مخصوص مصنوعی سیاروں (سیٹلائٹس)، خلا میں فوجی اڈوں کے قیام اور خلا میں جوہری ہتھیار نصب کرنے جیسے منصوبے تھے۔
معاہدۂ خلا
خلا کے موضوع نے اقوامِ متحدہ کے ایوانوں میں بھی تشویش پیدا کر دی تھی، کیونکہ متعدد ممالک کے نمائندوں اور حکام کو خدشہ تھا کہ مستقبل میں خلا کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اسی وجہ سے 1958 میں اقوامِ متحدہ کے تحت خلا سے متعلق ایک خصوصی کمیٹی قائم کی گئی، جس نے مشرقی اور مغربی بلاک کے ممالک کے نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر خلا کے پُرامن استعمال پر گفتگو کا سلسلہ شروع کیا۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ کو یہ اندیشہ بھی تھا کہ امریکا یا سوویت یونین چاند، دیگر سیاروں یا خلا کے کسی حصے پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔
اسی لیے اس کمیٹی نے اقوامِ متحدہ کے ساتھ مل کر خلا کو پوری انسانیت کی مشترکہ میراث اور اجتماعی ملکیت کے طور پر محفوظ رکھنے کی کوشش کی۔
ان ہی حالات میں مشرقی اور مغربی بلاک کے درمیان خلا سے متعلق ایک بین الاقوامی معاہدے کے لیے مذاکرات کا آغاز ہوا۔
27 جنوری 1967 کو واشنگٹن، ماسکو اور لندن میں معاہدۂ خلا پر دستخط کیے گئے، جبکہ بعد میں دیگر ممالک کے لیے بھی اس میں شامل ہونے کا راستہ کھول دیا گیا۔
10 اکتوبر 1967 کو یہ معاہدہ باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو گیا۔اس معاہدے کے تحت طے پایا کہ خلا کو صرف پُرامن اور سائنسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا اور کوئی بھی ملک وہاں ہتھیار نصب نہیں کرے گا۔
معاہدے نے تمام ممالک کو سائنسی اور تحقیقی مشن خلا میں بھیجنے کی اجازت دی۔مزید یہ کہ معاہدے کے مطابق کوئی بھی ریاست خلا، چاند یا کسی دوسرے فلکی جسم کے کسی حصے پر ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتی، کیونکہ خلا کو پوری انسانیت کا مشترکہ اثاثہ قرار دیا گیا۔
معاہدے میں خلا بازوں کو ''انسانیت کے سفیر'' قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا گیا کہ اگر انہیں کسی حادثے یا مشکل کا سامنا ہو تو تمام ممالک ان کی مدد کے پابند ہوں گے۔
اس کے علاوہ معاہدے نے ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی خلائی سرگرمیوں میں شفافیت اختیار کریں اور خلا میں کام کرنے والے اپنے سرکاری و نجی اداروں کی سرگرمیوں کی نگرانی کریں۔2025 کے آخر تک 118 ممالک معاہدۂ خلا پر دستخط کر چکے تھے۔