امریکی پابندی آڑے آ گئی، صومالی امپائر فٹبال ورلڈ کپ سے باہر
صومالیہ کے ریفری عمر عرتن فٹبال ورلڈ کپ میں میچز آفیشیٹ کرنے والے اپنے ملک کے پہلے ریفری بننے والے تھے، کو امریکہ میں داخلے سے روک دیا گیا۔
یہ بات صومالی وزارتِ کھیل کے ایک عہدیدار نے پیر کے روز فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتائی۔
فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ میامی انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے حکام نے عمر عرتن کو امریکہ میں داخلے کی اجازت کیوں نہیں دی، تاہم صومالیہ اُن ممالک میں شامل ہے ،جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی سفری پابندیوں کی فہرست میں موجود ہیں۔
بعد ازاں عالمی فٹبال تنظیم فیفا نے اعلان کیا کہ امریکہ میں داخلے سے روکے جانے کے باعث عمر عرتن کو فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے میچز میں ریفری کی ذمہ داریاں انجام دینے سے خارج کر دیا گیا ہے۔
فیفا کے ترجمان نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:فیفا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ میچ آفیشل عمر عبدالقادر عرتن امریکہ میں داخلے سے روکے جانے کے باعث ورلڈ کپ 2026 میں نہ تربیتی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں گے اور نہ ہی میچز آفیشیٹ کر سکیں گے۔
صومالی وزارتِ نوجوانان و کھیل کے سینئر مشیر اور قومی فٹبال ٹیم کے سابق کپتان سیسی عدن ابشیر نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ:عمر عرتن کو امریکہ میں داخلے سے روکنا اور انہیں مقررہ میچز میں ریفری کے فرائض انجام دینے سے محروم کرنا نہ صرف ان کے لیے ذاتی سطح پر نقصان دہ ہے بلکہ یہ فٹبال کے انصاف، میرٹ اور کھیل کی روح جیسے بنیادی اصولوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
ابشیر نے مزید بتایا کہ عمر عرتن کے پاس امریکہ کا درست اور مؤثر ویزا موجود تھا، تاہم 34 سالہ ریفری کو واپس ترکی کے شہر استنبول بھیج دیا گیا، جہاں وہ مقیم تھے۔عمر عرتن ان 52 ریفریز میں شامل تھے جنہیں فیفا نے کینیڈا، میکسیکو اور امریکہ میں منعقد ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے میچز آفیشیٹ کرنے کے لیے منتخب کیا تھا۔
عرتن 2018 میں فیفا سے بین الاقوامی ریفری کی منظوری حاصل کرنے کے بعد سے صومالیہ کی قومی فٹبال لیگ کے میچز میں ریفری کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
وہ 2023 کے افریقی کپ آف نیشنز کے فائنل مرحلے کے میچز میں بھی ریفری رہ چکے ہیں، جبکہ 2025 میں افریقی فٹبال کنفیڈریشن (CAF) نے انہیں سال کے بہترین مرد ریفری کے اعزاز سے نوازا تھا۔