سعودی عرب کے 'ہیریٹیج کمیشن' نے آثار قدیمہ کے سروے کے حوالے سے دوسرا مرحملہ مکمل کر لیا ہے۔ یہ سروے المھد گورنریٹ مدینہ ریجن میں مکمل کیا گیا ہے۔ جہاں قدیمی آثار ریکارڈ پر لائے گئے ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ یہ آثار مدینہ کی اسلامی ریاست کے ابتدائی برسوں سے متعلق ہیں۔ دوسرے مرحلے میں 'ہیریٹیج کمیشن' نے 1744 ایسے مقامات اور اشیاء کو قدیمی ورثے کے طور پر محفوظ کیا ہے۔
خیال رہے یہ دریافتیں تین مختلف علاقوں السویرقیۃ، المویحۃ اور الھدی میں مکمل کی گئی ہیں۔ سروے میں 156 آثار قدیمہ کو ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان میں 461 اسلامی مخطوطے، 34 ثمود سے متعلق مخطوطے، 1259 چٹانی تختوں پر مشتمل ہیں، 11 پتھروں کے ڈھانچے، 3 محلات، 2 قدیمی سڑکیں اور 4 کنووں کی دریافت شامل ہے۔
سب سے زیادہ چٹانی نوشتوں کا تعلق حضرت عمر بن الخطاب کے عہد سے ہے۔ جن میں عربی شاعری بھی چٹانوں پر کندہ کی گئی ہے۔
'ہیریٹیج کمیشن' نے عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اس طرح کے سروے مملکت کے تمام علاقوں میں جاری رکھے گا تاکہ ویژن 2030 کے تحت سعودی ثقافت اور ورثے کو سامنے لایا جا سکے۔
پچھلے ہفتے کمیشن نے اپنے سروے کے سلسلے کا پہلا مرحلہ مکمل کیا تھا۔ اس میں یونیورسٹی آف ایکسیٹر کا بھی تعاون حاصل تھا۔ اس مرحلے میں 1700 کی تعداد میں نادر اشیاء تک رسائی ہوئی تھی۔
سروے کے نتیجے میں مکہ کے نزدیکی علاقے جوفہ سے عام زندگی میں استعمال ہونے والی مختلف اشیاء کی دریافت کی گئی۔ بعض ایسی چیزیں بھی ملیں جو مصر، ایتھوپیا، شام و عراق سے متعلق تھیں جن سے پتا چلتا تھا کہ یہ اس دور سے متعلق حجاج کرام کی اشیاء ہیں جو اس راستے سے گئے تھے۔