علی خامنہ ای کی تجہیز و تکفین سے پہلے امریکہ اور اسرائیل کو ایرانی انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران کے ایک فوجی کمانڈر نے امریکہ واسرائیل کو انتباہ کیا ہے کہ ایران میں سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کی تدفین کی تیاریوں کے دوران کوئی حملہ کیا گیا تو جواب انتہائی سخت ہوگا۔ ایرانی فوجی کمانڈر کا بیان جمعرات کے روز سامنے آیا ہے جبکہ تیاریوں کے عروج کا دن آج جمعہ کا ہے۔ آج سے ہی ایران کے اندرون اور بیرون شرکاء اور مہمان پہنچنا شروع ہو جائیں گے۔

علی خامنہ کو امریکہ و اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنی مشترکہ جنگ کے پہلے ہی روز 28 فروری کو بمباری کر کے قتل کر دیا تھا۔ علی خامنہ ای کی تجہیز و تکفین کا عمل ہفتے کے روز 4 جولائی کو تہران میں شروع ہوگا۔ جبکہ تہران میں لوگوں کی آمد کا سلسلہ جمعہ کے روز سے شروع ہوجائے گا۔ یاد رہے تہران میں جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لیے بڑے بڑے اجتماعات ہوتے ہیں۔ ان بڑے اجتماعات جمعہ کا موضوع بھی علی خامنہ ای کی زندگی اور خدمات ہوگا۔

فوجی کمانڈر نے کہا 'ہم اپنے دشمنوں خصوصا امریکہ اور صہیونی رجیم کوخبردار کرتے ہیں کہ اگر انہوں نے کسی غلط اندازے کی بنیاد پر کوئی حملہ کیا تو انہیں اس قدر سخت جواب کو برداشت کرنا پڑے گا ۔ ہم نے اس سلسلے میں اپنی افواج کو مکمل تیار رہنے کا کہہ دیا ہے۔'

فوجی ہیڈ کوارٹر خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمانڈر علی عبداللہی نے یہ بیان بطور خاص جاری کیا ہے۔

علی خامنہ کی تجہیز و تکفین کے سلسلے میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف بھی ایران جائیں گے۔ یہ بات پاکستان کے دفتر خارجہ نے جمعرات کے روز بتائی ہے۔ چین کی پارلیمنٹ کی کمیٹی کے نائب صدر تہران پہنچیں گے۔ بھارت نے بھی اعلان کیا ہے کہ اس کے بہار کے ریاستی گورنر سید عطاء حسین ایران جائیں گے۔ ان کے ساتھ بھارت کے نائب وزیر خارجہ پابیترا مارغریٹا بھی ایران جارہے ہیں۔ ان کی ایران آمد کی توقع 3 جولائی کو ہے۔

کئی ملکوں کے وفود بھی اس اہم موقع پر ایران میں ہوں گے۔ بدھ کے روز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی ایک سخت بیان جاری کیا۔ ان کا یہ بیان اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جو انہوں نے ایران کے نئے سپریم لیڈر کو بھی قتل کر دینے کے سلسلے میں دیا تھا۔

ایران نے اس موقع پر انتہائی غیر معمولی انتظامات کیے ہیں۔ تمام تر افواج کے علاوہ دیگر سیکیورٹی ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔ عارضی طور پر ایران کی فضائی حدود کو بھی بند کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size