ورزش نہ ہی خوراک: ایک عادت جو آپ کی عمر لمبی کر سکتی ہے

رجائیت پسندی خوشی کا احساس، زندگی کو با مقصد بنانے، مضبوط سماجی تعلقات کو فروغ دیتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

حالیہ سائنسی تحقیقات کے ایک مجموعے نے انکشاف کیا ہے کہ رجائیت پسندی یا امید پسندی محض ایک مثبت نفسیاتی کیفیت سے بڑھ کر بھی کچھ ہو سکتی ہے کیونکہ شواہد نے بتایا ہے کہ رجائیت پسندی کا تعلق طویل عرصے تک زندہ رہنے کے امکانات میں اضافے کے ساتھ ہے۔ امیدیں قائم رکھنا کا تعلق بلکہ 85 سال سے زیادہ کی غیر معمولی عمر پانے اور عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ جسمانی اور ذہنی صحت کو بہتر بنانے سے بھی ہے۔

ویب سائٹ "سائنس الرٹ" کی طرف سے شائع کردہ ایک رپورٹ ، جو سائنسی ریسرچ اور طویل مدتی مطالعہ جات پر مبنی ہے، کے مطابق زندگی کے بارے میں پرامید نقطہ نظر برقرار رکھنے کا تعلق تناؤ کی سطح میں کمی، عمومی صحت میں بہتری اور طویل عمر سے لطف اندوز ہونے کے امکانات میں اضافے سے ہے۔ ہیلتھ سائنسدان جولانتا برک نے کہا ہے کہ پرامید لوگوں کے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ عمر تک پہنچنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ویب سائٹ ’’ دا کنورسیشن ‘‘ کے مطابق تناؤ میں کمی اور زندگی کے بارے میں مثبت نقطہ نظر کا طویل عمر سے گہرا تعلق ہے۔

مزید 10 سال

ان سب سے نمایاں تحقیقات میں سے ایک مطالعہ ہے جو پچھلی صدی کی تیس کی دہائی میں راہباؤں کے ایک ابتدائی گروپ پر شروع ہوا تھا جن سے ان کی جوانی میں ان کی زندگی کی کہانی لکھنے کو کہا گیا تھا۔ تقریباً 60 سال بعد محققین نے پایا کہ جن راہباؤں نے اپنی یادداشتوں میں زیادہ مثبت زبان استعمال کی تھی، وہ ان لوگوں کے مقابلے میں اوسطاً 10 سال زیادہ زندہ رہیں جن کی تحریریں کم پرامید تھیں۔

85 سال تک پہنچنے کے امکان میں اضافہ

ایک اور مطالعہ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیادہ پرامید لوگوں کے پاس اس عمر کو حاصل کرنے کے 15 فیصد زیادہ امکانات تھے جسے محققین نے غیر معمولی عمر قرار دیا ہے۔ یہ غیر معمولی عمر 85 سال یا اس سے زیادہ کی عمر ہے۔ اگرچہ سائنسدان اس تعلق کی وجہ نہیں جانتے لیکن ان کا خیال ہے کہ رجائیت پسندی صحت کے عوامل کے ایک مجموعے کو فروغ دیتی ہے۔ اس مجموعے میں خوشی کا احساس، زندگی میں ایک مقصد کا ہونا اور مضبوط سماجی تعلقات کا ہونا شامل ہے۔ یہ تمام عوامل دائمی بیماریوں کے لگنے کے خطرات میں کمی سے جڑے ہوئے ہیں۔

قناعت خوشی کی چابی

اس مفروضے کو خوشی کے بارے میں دنیا کے سب سے طویل مطالعے کے نتائج سے بھی تقویت ملتی ہے جو 1938 میں شروع ہوا تھا اور آج بھی جاری ہے۔ تقریباً نو دہائیوں کے بعد محققین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ لمبی اور صحت مند زندگی سے لطف اندوز ہونے کا سب سے طاقتور عامل صرف جینز نہیں ہیں بلکہ یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی سے کتنا مطمئن ہے اور اس کے سماجی تعلقات کا معیار کیا ہے۔

مطالعہ سے معلوم ہوا کہ جو لوگ ادھیڑ عمر کے دوران دوستوں اور خاندان کے ساتھ اپنے تعلقات سے زیادہ مطمئن تھے، وہ اسی سال کی عمر کو پہنچنے پر سب سے زیادہ صحت مند تھے، ان میں بیماریوں کی شرح بھی کم تھی اور ان سے صحت یاب ہونے کی صلاحیت بھی زیادہ تھی۔ محققین کا ماننا ہے کہ سماجی تعلقات ایک ایسی ڈھال کے طور پر کام کرتے ہیں جو انسان کو نفسیاتی دباؤ اور بے چینی سے بچاتی ہے۔ یہ ڈھال جسمانی اور ذہنی صحت پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔

جینز اور رویے

کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ نوے سال کی عمر تک پہنچنے کا انحصار تقریباً 30 فیصد موروثی عوامل پر ہوتا ہے جبکہ 70 فیصد صحت بخش رویوں پر ہوتا ہے۔ ان رویوں میں غذا، جسمانی سرگرمی اور نفسیاتی کیفیت شامل ہیں۔ "سائنس الرٹ" کی رپورٹ امریکی اداکار ڈک وان ڈائیک کی طرف اشارہ کرتی ہے جنہوں نے اپنی 100 ویں سالگرہ منائی جبکہ وہ اب بھی چستی اور توانائی سے بھرپور ہیں۔

وان ڈائیک اپنی کتاب ’’ 100 سال تک جینے کے 100 اصول ‘‘ میں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ وہ کبھی بھی برے موڈ کے ساتھ بیدار نہیں ہوتے اور وہ رجائیت پسندی کو اپنی خوشگوار زندگی کی اہم ترین وجوہات میں سے ایک سمجھتے ہیں۔ یہ رپورٹ برطانوی نیچرلسٹ ڈیوڈ اٹنبرو کی مثال کو بھی نمایاں کرتی ہے جو خود بھی اپنی 100 ویں سالگرہ منا چکے ہیں اور انہوں نے ریٹائرمنٹ کے خیال کو مسترد کرتے ہوئے کام، سرگرمی اور فطرت کے لیے اپنے جنون کو برقرار رکھنا جاری رکھا۔ اس رویے کو محققین صحت کو برقرار رکھنے اور لمبی عمر پانے میں ایک اہم عامل سمجھتے ہیں۔

محققین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صرف رجائیت پسندی ہی طویل عمر تک پہنچنے کی ضمانت نہیں دیتی لیکن یہ ان عوامل میں سے ایک معلوم ہوتی ہے جنہیں انسان جسمانی سرگرمی، سماجی تعلقات اور زندگی میں ایک مقصد کی موجودگی کے ساتھ ساتھ پروان چڑھا سکتا ہے۔ ان مشترکہ عوام سے زیادہ طویل اور صحت مند سالوں سے لطف اندوز ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں