ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ہالینڈ کے ہم منصب کیسپر ویلڈکیمپ کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک یورپی ممالک کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ نیوز ایجنسی ’’ تسنیم‘‘ کے مطابق عباس عراقچی نے مختلف ممالک کے ساتھ اچھے سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے ملک کے نقطہ نظر پر زور دیا اور کہا ایران یورپی ممالک کے ساتھ باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
اپنی طرف سے ہالینڈ کے وزیر خارجہ نے ہالینڈ اور ایران کے درمیان تاریخی تعلقات اور علاقائی ترقی میں ایران کے کردار کی اہمیت کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا ملکوں کے درمیان افہام و تفہیم کو بڑھانے اور اختلافات کو حل کرنے کے لیے سفارتی آلات کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
عدم استحکام کا ایک بڑا ذریعہ
سات ممالک کے گروپ، جس میں برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور امریکہ شامل ہیں، نے جمعے کو اپنے وزرائے خارجہ کی ملاقات کے بعد ایک حتمی بیان کے مسودے میں کہا تھا کہ تہران مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ گروپ نے زور دیا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے سفارت کاری کی طرف لوٹے۔
واضح رہے مغربی ممالک کئی دہائیوں سے ایران پر جوہری ہتھیار رکھنے کی کوشش کرنے پر شک کرتے رہے ہیں۔ تہران اس معاملے کی سختی سے تردید کرتا ہے اور اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اس کے پروگرام خصوصی طور پر شہری مقاصد کے لیے ہیں۔
تہران، واشنگٹن، پیرس، لندن، برلن، ماسکو اور بیجنگ کے درمیان 2015 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت تہران کی جانب سے جوہری سرگرمیوں کو کم کرنے اور اپنے پروگرام کے پرامن ہونے کو یقینی بنانے کے بدلے میں اس پر سے پابندیاں اٹھانے کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم 2018 میں ٹرمپ کے فیصلے سے امریکہ یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے دستبردار ہو گیا تھا اور امریکہ ایران کی معیشت کو ختم کرنے والی سخت پابندیاں دوبارہ عائد کر دی تھیں۔
دوبارہ پابندیاں
تہران نے معاہدے سے امریکی انخلاء کے بعد ایک سال تک اس معاہدے کی پاسداری کی لیکن بعد میں اپنے وعدوں کو ترک کرنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد سے اس معاہدے کی بحالی کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ اس کے نافذ ہونے کے دس سال بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے جاری کردہ قرارداد 2231 کے اثرات اکتوبر 2025 میں ختم ہو جائیں گے۔ کچھ ممالک اس تاریخ کے گزر جانے کے بعد ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے سے انکار نہیں کرتے۔