فٹبال میچوں کا جوش دل کے لیے کب خطرناک بن جاتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

رواں سال ورلڈ کپ کے دلچسپ مقابلوں کے ساتھ شائقین کے جذبات بھی مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار رہتے ہیں۔ ایک ہی میچ میں خوشی، غم، بے چینی اور شدید سنسنی جیسے احساسات یکجا ہو سکتے ہیں۔ تیز رفتار حملوں، دفاع توڑنے کی کوششوں اور فیصلہ کن مواقع کے دوران جوش اور ذہنی دباؤ بڑھ جاتا ہے، جس کا براہِ راست اثر دل پر بھی پڑ سکتا ہے، خاص طور پر جب کوئی اہم یا انتہائی سنسنی خیز میچ دیکھا جا رہا ہو۔

ہیوسٹن میتھوڈسٹ اسپتال کے شعبۂ امراضِ قلب کے سربراہ ڈاکٹر ولیم زغبی کے مطابق فٹبال میچ دیکھتے ہوئے جذباتی تناؤ، جوش اور بے چینی کی وجہ سے دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

ان کے بقول یہ جسم کا ایک فطری ردِعمل ہے، جسے ''فائٹ اور فلائٹ'' (لڑو یا بھاگو) ردِعمل کہا جاتا ہے، جو قدیم زمانے میں انسان کو خطرناک حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار کرتا تھا۔

ڈاکٹر زغبی کا کہنا ہے کہ جب انسان جسمانی یا ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا ہے تو ایڈرینل غدود ایسے ہارمون خارج کرتے ہیں جو دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر کو بڑھا دیتے ہیں۔ یہ ایک موروثی حفاظتی نظام ہے، جس کا مقصد انسان کو چوکنا رکھنا اور مشکل صورتحال سے نمٹنے کے لیے اضافی توانائی فراہم کرنا ہے۔

شدید ذہنی دباؤ کا تجربہ

ڈاکٹر ولیم زغبی کہتے ہیں،اگرچہ فٹبال میچ کے دوران شدید جوش و خروش بظاہر ایسا خطرہ نہیں لگتا جس کے لیے جسم اس طرح کا ردِعمل ظاہر کرے، لیکن جسم اس فرق کو نہیں سمجھتا۔ اسے صرف یہ محسوس ہوتا ہے کہ انسان ایک انتہائی دباؤ والی کیفیت سے گزر رہا ہے، اس لیے وہ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو تیار کر لیتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ زیادہ تر افراد کے لیے فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ سنسنی خیز میچ دیکھتے وقت دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر میں عارضی اضافہ عموماً نقصان دہ نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ دل کی دھڑکن اکثر اس سطح تک بھی نہیں پہنچتی جو ہلکی جسمانی سرگرمی کے دوران ہوتی ہے اور یہ تبدیلیاں اتنی دیر برقرار نہیں رہتیں کہ دل پر مستقل منفی اثرات مرتب ہوں۔

البتہ دل کے مریضوں کے لیے صورتحال مختلف ہو سکتی ہے۔ دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر میں اضافہ دل پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے، کیونکہ اسے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ اسی وجہ سے دل یا کورونری شریانوں کے امراض میں مبتلا افراد کو سنسنی خیز میچ دیکھتے ہوئے سینے میں درد یا دباؤ، گھٹن یا سانس پھولنے جیسی علامات زیادہ شدت سے محسوس ہو سکتی ہیں۔

نایاب مگر ممکنہ خطرہ

ڈاکٹر ولیم زغبی کے مطابق یہ علامات لازماً کسی سنگین مسئلے کی نشاندہی نہیں کرتیں، تاہم بہت کم اور نایاب صورتوں میں شدید ذہنی دباؤ یا جذباتی تناؤ ''اسٹریس کارڈیو مایوپیتھی'' (Stress Cardiomyopathy) یا دباؤ سے ہونے والی دل کے پٹھوں کی کمزوری کا سبب بن سکتا ہے، خصوصاً ایسے افراد میں جو اس عارضے سے اپنی لاعلمی میں پہلے ہی متاثر ہوں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ یہ کیفیت انتہائی نایاب ہے اور زیادہ تر مریض مکمل صحت یاب ہو جاتے ہیں، لیکن شدید ذہنی دباؤ یا غیر معمولی جوش و خروش بعض اوقات دل سے متعلق خطرناک پیچیدگیوں کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

ڈاکٹر زغبی نے فٹبال شائقین کو مشورہ دیا کہ وہ، خواہ صحت مند ہوں یا دل کے مریض، اپنے دل کی صحت کا خاص خیال رکھیں۔ اس کے لیے باقاعدہ جسمانی سرگرمی، متوازن غذا، تمباکو نوشی سے پرہیز اور ان عوامل سے بچنا ضروری ہے ،جو دل پر اضافی بوجھ ڈالتے ہیں، تاکہ پسندیدہ ٹیم کی حوصلہ افزائی ایک محفوظ اور خوشگوار تجربہ ثابت ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں