بحیرہ روم ڈائٹ کے نفسیاتی فوائد جن کے بارے میں کم لوگ جانتے ہیں

50 برس سے زائد عمر کے افراد کے لیے خوشخبری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ماہرین کا کہنا ہے کہ میڈیٹرینین ڈائٹ پر عمل کرنا ذہنی صحت کے لیے اضافی فوائد فراہم کر سکتا ہے۔ ایک حالیہ تحقیق نے اس غذا کو 50 برس سے زائد عمر کے افراد کی بہتر ذہنی صحت کے لیے مفید قرار دیا ہے۔

نیورو سائنس نیوز کی ویب سائٹ پر ’بی ایم جے اوپن‘ جریدے کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ تحقیق یونیورسٹی کالج لندن اور بارسلونا انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ کے درمیان تعاون کا نتیجہ ہے جو لا کائیکسا فاؤنڈیشن کی حمایت یافتہ ایک مرکز ہے۔

مثبت ذہنی صحت

متعدد مطالعات سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ میڈیٹرینین ڈائٹ جو پھلوں سبزیوں ،پھلیوں، مچھلی اور زیتون کے تیل سے بھرپور ہوتی ہے جسمانی انحطاط اور ڈپریشن جیسے عوارض کے خلاف ایک مؤثر ڈھال ہے۔

تاہم یہ نئی تحقیق اس سے آگے بڑھ کر مثبت ذہنی صحت پر توجہ مرکوز کرتی ہے جس میں کنٹرول خود مختاری خوشی اور خود کو مکمل کرنے جیسے پہلو شامل ہیں۔ اس میں خود مختار زندگی سے لطف اندوز ہونے، مقصد کے احساس ،توانائی کی سطح اور مستقبل کے نقطہ نظر سے متعلق سوالات شامل ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ میڈیٹرینین ڈائٹ کے ذہنی فوائد ڈپریشن کی علامات یا شرکاء کی سماجی و اقتصادی حیثیت سے متاثر نہیں ہوتے ہیں۔

کووڈ-19 کی وبا

’ای ایل ایس اے‘ گروپ کے ذریعے جمع کردہ ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ ’کووڈ-19‘ کی وبا کے ظہور اور اس کے بعد آنے والی پابندیوں نے تحقیق میں شامل افراد پر منفی جذباتی اثر ڈالا۔ تاہم میڈیٹرینین ڈائٹ کی سختی سے پیروی کرنے والے افراد میں ذہنی صحت کی تنزلی کم دیکھی گئی جو کہ اس کے حفاظتی اثر کی نشاندہی کرتی ہے۔

بارسلونا انسٹی ٹیوٹ کی محقق اور تحقیق میں مرکزی کردار ادا کرنے والی کیمائل لاسال کا کہنا ہے کہ شواہد بتاتے ہیں کہ میڈیٹرینین ڈائٹ کے بنیادی اجزاء کلیدی حیاتیاتی عمل کو منظم کرنے میں مدد کرتے ہیں جیسا کہ تناؤ کا ردعمل سوزش آنتوں کی صحت اور دماغی افعال شامل ہیں۔

ابھرتا ہوا تحقیقی میدان

نفسیات کی محقق اور تحقیق میں شریک الانا شینڈ کا کہنا ہے کہ یہ مطالعہ غذا اور ذہنی صحت کے درمیان تعلق کے مزید شواہد فراہم کرتا ہے جو ایک ابھرتا ہوا تحقیقی شعبہ ہے ۔ امید ہے کہ آنے والے برسوں میں اس سے اہم نئے نتائج سامنے آئیں گے۔

یونیورسٹی کالج لندن کے محقق اور تحقیق میں شریک اینڈریو سٹیپٹو نے مزید کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ صحت مند طرز زندگی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جس میں پودوں پر مبنی غذاؤں سے بھرپور اور پراسیس شدہ گوشت اور مٹھائیوں جیسی غذاؤں سے کم متوازن غذا کو ترجیح دی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں