سعودی عرب میں کڈنی، یورولوجی، آنکولوجی اور روبوٹک سرجری کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر محمد الخميس نے باور کرایا ہے کہ دو سعودی شہروں کے درمیان پہلی ریموٹ روبوٹک سرجری کی حقیقی اہمیت اس ٹیکنالوجی کے استعمال میں نہیں، بلکہ اسے قومی عملے کے ذریعے مکمل طور پر مقامی بنانے اور چلانے میں ہے، جنہوں نے تمام طبی، فنی اور انجینئرنگ کے مراحل سنبھالے۔ انہوں نے اس کامیابی کو ایک مربوط ٹیم ورک کا نتیجہ قرار دیا۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے الخميس نے کہا کہ مملکت میں روبوٹک سرجریز کی فراہمی تقریباً دو دہائیوں سے جاری ہے، تاہم سب سے نمایاں پیش رفت اسے دور بیٹھ کر (Remotely) انجام دینا ہے۔ وزارت نیشنل گارڈ کے ما تحت صحت کے امور کی انتظامیہ کے اعلان کے مطابق ریاض کی کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی سے ایک طبی ٹیم نے جدہ کی کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی میں موجود ایک مریض کی روبوٹک سرجری انجام دی۔
الطبيب في الرياض.. والمريض في جدة والعملية نجحت بكل دقة 🤖
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) July 18, 2026
إنجاز طبي سعودي جديد يفتح آفاق جديدة للجراحة الروبوتية عن بُعد pic.twitter.com/VBfweLcTgu
انہوں نے وضاحت کی کہ اس عمل میں ڈیڑھ سے دو گھنٹے لگے اور مریض بغیر کسی پیچیدگی کے اگلے ہی دن شفایاب ہو کر ہسپتال سے رخصت کر دیا گیا۔ یہ مملکت کے اندر دو شہروں کے درمیان کی جانے والی پہلی ریموٹ روبوٹک سرجری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس مرحلے تک پہنچنے سے پہلے مہینوں کی تیاری کی گئی، جس میں تمام ممکنہ حالات کو جانچنے کے لیے بار بار سمولیشنز کی گئیں اور سرجیکل، اینستھیزیا، نرسنگ اور ٹیکنیکل ٹیموں کے درمیان گہرا رابطہ برقرار رکھا گیا۔
الخميس نے واضح کیا کہ منصوبے میں کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے تفصیلی طریقہ کار شامل تھے، جیسے سرجری کے دوران کنکشن منقطع ہونا۔ جدہ میں مریض کے پاس ایک ماہر سرجن کا موجود ہونا اس بات کی ضمانت تھا کہ کسی بھی فنی خرابی کی صورت میں سرجری فوری طور پر خود جاری رکھی جا سکے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ مملکت کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر نے کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ سسٹم ڈیولپر کمپنی نے کمیونیکیشن نیٹ ورک کی رفتار کو سراہا۔ ڈیٹا کی منتقلی بغیر کسی تاخیر کے فوری ہوئی، گویا سرجن اور مریض ایک ہی آپریشن تھیٹر میں موجود ہوں، حالانکہ ریاض اور جدہ کے درمیان ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ ہے۔
الخميس کا ماننا ہے کہ ریموٹ روبوٹک سرجری سے صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی میں انقلابی تبدیلی آئے گی، کیونکہ مریض اپنے ہی شہروں میں اعلیٰ ترین سرجیکل سہولیات حاصل کر سکیں گے اور انہیں دوسرے شہروں کے سفر کی زحمت نہیں اٹھانی پڑے گی۔