جدید زندگی کے دباؤ سے انسانی دماغ کی صلاحیتوں میں تبدیلی، سائنسدانوں کی نئی تحقیق
جدید زندگی بظاہر مصروف دنوں اور مسلسل بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ محسوس ہوتی ہے۔سائنس الرٹ (Science Alert) کی جانب سے جریدہ Behavioral Sciences کے حوالے سے شائع کی گئی ایک نئی تحقیق میں سنگاپور کے مختلف علمی اداروں سے تعلق رکھنے والے محققین نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ انسانی ترقی کی تیز رفتار ہمارے جسم اور دماغ کی اس کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت سے آگے نکل گئی ہے۔
اس نظریے کے مطابق انسان ہزاروں سال کے ارتقائی عمل کے دوران چھوٹے گروہوں میں، مانوس افراد کے ساتھ رہنے اور واضح و براہِ راست خطرات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوا۔لیکن آج انسان ایک ایسے ماحول میں زندگی گزار رہا ہے، جہاں مسلسل رابطے، بڑے معاشرے، پیچیدہ مسائل اور متعدد قسم کے دباؤ موجود ہیں۔
یہ صورتحال مقابلے کے احساس کو بڑھاتی ہے اور انسانی ذہنی و نفسیاتی صلاحیتوں کو بڑھتے ہوئے دباؤ میں ڈال دیتی ہے۔
ارتقائی تضاد
تحقیق کے مطابق جسے ''ارتقائی تضاد'' کہا جاتا ہے، وہ صحت اور نفسیاتی مسائل کی ایک بڑی وجہ بن سکتا ہے، جن میں موٹاپے سے لے کر بے چینی (اضطراب) تک مختلف مسائل شامل ہیں۔
سنگاپور یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ ڈیزائن کی ماحولیاتی ماہرِ نفسیات سارہ چان کے مطابق، ذہنی دباؤ، تنہائی اور بے چینی کو اکثر انفرادی مسائل یا طرزِ زندگی سے جڑی مشکلات سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ اس فرق کی عکاسی کر سکتے ہیں جو آج کے انسانی ماحول اور ان حالات کے درمیان پیدا ہو گیا ہے، جن کے مطابق انسانی دماغ اور جسم ارتقائی طور پر خود کو ڈھالتے آئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال اس بات کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے کہ صرف افراد میں مشکلات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے پر توجہ نہ دی جائے، بلکہ اس بات پر بھی غور کیا جائے کہ شہروں اور معاشروں کو کس طرح بہتر انداز میں تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
فطری ردِعمل
محققین کے مطابق انسانوں کے فطری اور جبلّی ردِعمل لاکھوں سال کے ارتقائی عمل کے دوران تشکیل پائے ہیں، لیکن گزشتہ دو صدیوں میں تیزی سے بدلنے والے جدید ماحول میں یہ ردِعمل اب پہلے جیسی مؤثریت نہیں رکھتے۔
مثال کے طور پر ماضی میں انسان کے لیے اپنی محدود سماجی برادری میں اپنی حیثیت کو سمجھنا نسبتاً آسان تھا، جبکہ آج وہ مسلسل ایک بڑی تعداد میں دوستوں، رشتہ داروں، مشہور شخصیات بلکہ انٹرنیٹ پر موجود اجنبی لوگوں سے بھی اپنا موازنہ کرتا رہتا ہے۔
جدید زندگی میں مقابلے کا رجحان
سنگاپور کی جیمز کُک یونیورسٹی کے تحقیقی ماہرِ نفسیات جوزے یونگ کے مطابق مقابلہ کوئی نئی چیز نہیں، لیکن جدید زندگی نے اسے ایک ایسی مسلسل کیفیت بنا دیا ہے جو ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔
محققین کے مطابق اس رجحان کو ارتقائی نقطۂ نظر سے دیکھنے سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ انسان سماجی موازنے کے معاملے میں اتنا حساس کیوں ہے اور دوسروں سے پیچھے رہ جانے کا خوف کیوں محسوس کرتا ہے، چاہے یہ اثرات کسی قریبی سماجی حلقے کے بجائے اجنبی افراد یا اسکرین کے ذریعے ہی کیوں نہ آ رہے ہوں۔
محققین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، وبائیں، معاشی عدم استحکام اور تیزی سے ہونے والی تکنیکی تبدیلیاں، جن میں مصنوعی ذہانت (AI) کی ترقی بھی شامل ہے، عالمی چیلنجز میں اضافہ کر رہی ہیں۔
ان عوامل کے جمع ہونے سے ایک ایسی صورتحال پیدا ہو رہی ہے، جسے ماہرین کثیرالجہتی بحران قرار دیتے ہیں، جہاں مختلف قسم کے دباؤ ایک دوسرے سے جڑ کر بیک وقت افراد اور معاشروں کو متاثر کر رہے ہیں۔
نفسیاتی اور سماجی اثرا ت
محققین کا کہنا ہے کہ بڑے عالمی بحران اب الگ الگ واقعات نہیں رہے بلکہ ایک دوسرے سے جڑ چکے ہیں اور ایک دوسرے کو مزید بڑھاوا دے رہے ہیں۔
تحقیق میں لکھا گیا ہے کہ یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ عالمی صدمات اور ان کے نفسیاتی و سماجی اثرات ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ ہر بحران دوسرے کے اثرات کو مزید مضبوط کر دیتا ہے۔
مثال کے طور پر زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور معاشی عدم مساوات میں اضافہ جو مالی بحرانوں اور کووڈ-19 وبا جیسے واقعات کے باعث مزید شدت اختیار کر گئے، بہت سے لوگوں میں مالی اور سماجی عدم تحفظ کے احساس کو بڑھا رہے ہیں۔
محققین کے مطابق اس صورتحال کا اثر تھکن، ذہنی دباؤ اور مثبت سماجی روابط میں کمی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، جو مزید عدم استحکام کے احساس کو بڑھاتا ہے۔
یوں دباؤ اور سماجی مقابلے کا ایک ایسا منفی چکر پیدا ہو سکتا ہے جو معاشی ترقی کی رفتار کو سست کرنے یا اسے جمود کی طرف لے جانے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
اس سے قبل ہونے والی بعض تحقیقات میں بھی اسی نوعیت کے خیالات سامنے آئے ہیں۔
ان کے مطابق گنجان شہری زندگی انسانی جسم کو ایسے ردِعمل پر مجبور کر سکتی ہے، جیسے وہ مسلسل کسی خطرے کا سامنا کر رہا ہو۔
ان مطالعات کے مطابق جدید ثقافت اور طرزِ زندگی کے اثرات انسان پر اب اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ وہ روایتی ماحولیاتی عوامل کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہو گئے ہیں، جبکہ یہی ماحولیاتی عوامل انسانی ارتقائی سفر میں اس کی تشکیل کا اہم حصہ رہے ہیں۔
شہروں اور ڈیجیٹل ماحول کی منصوبہ بند ی
محققین اس نظریے کو سماجی ارتقا میں عدم مطابقت اور مقابلے کا مفروضہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اس نظریے کو بہتر طور پر سمجھنے سے جدید دور میں بڑھتے ہوئے بعض نفسیاتی مسائل کی وجوہات جاننے میں مدد مل سکتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس مفروضے کے اثرات صرف ذہنی صحت تک محدود نہیں بلکہ شہروں اور شہری ماحول کی منصوبہ بندی سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔
ان کے مطابق عوامی مقامات کو اس طرح ڈیزائن کیا جا سکتا ہے کہ وہاں بھیڑ اور دباؤ کم ہو، جبکہ روزمرہ زندگی میں قدرتی اور سبز جگہوں کو زیادہ اہمیت دی جائے۔
اسی طرح محققین کے مطابق یہی اصول ڈیجیٹل دنیا پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ وہ تجویز کرتے ہیں کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ٹیکنالوجیز کے ڈیزائن پر دوبارہ غور کیا جائے، تاکہ وہ مسلسل موازنہ اور مقابلے کے احساس کو بڑھانے کے بجائے ان جذبات کو کم کرنے میں مدد دیں۔