مصر کے سابق مفتی اعظم شیخ ڈاکٹر علی جمعہ نے العربیہ نیوز کے پروگرام "سؤال مباشر" (براہ راست سوال) میں بطور مہمان شرکت کی۔ پروگرام کے میزبان خالد مدخلی کے ساتھ گفتگو میں انھوں نے کئی متنازع اور فقہی معاملات پر روشنی ڈالی۔
جدید سماجی معاملات سے متعلق شیخ علی جمعہ کی کئی اجتہادی آراء اور فتوؤں نے اسلامی حلقوں میں نئی بحث کے دروازے کھولے۔ ان میں محبت کی نوعیت اور بین المذاہب تعلقات وغیرہ شامل ہیں۔
اسی طرح ایک مشہور پروگرام کے دوران ان کے ایک بیان نے تنازع کھڑا کر دیا جس میں شیخ نے کہا کہ "ہمارا رب آخرت میں جہنم کی آگ کو بجھا دے گا"۔
اس رائے کے بارے میں جب شیخ علی جمعہ سے شرعی دلائل کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ "یہ اہل سنت والجماعت کی رائے ہے، یہ کوئی نئی رائے نہیں ہے بلکہ کئی زمانوں سے اہل سنت والجماعت میں پڑھایا جا رہا ہے ... اللہ تعالی اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا مگر وہ اپنی وعید میں کمی کر سکتا ہے ... اللہ تعالی اپنی رحمت کی تجلی سے کچھ بھی کر سکتا ہے جس میں جہنم کی آگ کا بجھا دیا جانا یا ختم کر دیا جانا بھی ممکن ہے ... یہ اہل سنت کا مذہب ہے ، اس کو ابن القيّم اور ابن تيميہ رحمہم اللہ نے بھی پیش کیا ... یہ کوئی جدید یا جدت پر مبنی بات نہیں ہے ... یہ کوئی ایسی رائے نہیں جس پر ہم براہ راست دلائل سے پہنچ گئے بلکہ یہ صحابہ ، تابعین اور آئمہ کرام کی کہی ہوئی بات ہے"۔
شیخ علی جمعہ نے مزید کہا کہ "میں نے یہ کام کیا ہے کہ نوجوانوں کو اطمینان دلایا کہ وہ محبت کے ساتھ اللہ کی بندگی کریں ، اس لیے کہ اللہ تعالی جمیل ہے اور وہ جمال کو پسند فرماتا ہے ... اللہ تعالی کے جمال ، جلال اور کمال سب کے لیے نام ہیں ... تو پھر ہم صرف جلال کو ہی کیوں اس کی ذات سے مختص کرتے ہیں ؟ ہمیں اللہ رب العزت کی بندگی اس تصور کے ساتھ کرنا چاہیے کہ وہ رحمن رحيم ہے مگر ساتھ منتقم اور جبار بھی ہے"۔
مصر کے سابق مفتی اعظم نے یہ واضح کیا کہ "میں درحقیقت آگ کے فنا ہونے کی بات نہیں کر رہا مگر میں لوگوں کے لیے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھول رہا ہوں ... کیوں ؟ اس لیے کہ لوگوں نے خود کو جنت و دوزخ کے ساتھ مصروف کر لیا ہے اور اللہ تعالی کی محبوب عبادت اور اس کا شوق چھوڑ دیا گیا ہے .... ہم نے اصل چیز چھوڑ دی ہے اور اس کے پیچھے لگ گئے ہیں کہ کون جنت میں جائے گا اور کون جہنم میں جائے گا ؟ عقیدہ تو یہ کہتا ہے کہ ہمارا اس کی رحمت ، اس کے عفو درگزر پر یقین نا گزیر ہے ... اللہ سبحانہ و تعالی ہمارے دلوں کے لیے حبیب ہے ... ہم یہ معنی لوگوں تک پہنچانا چاہتے ہیں"۔ العقيدة تقول إنه لابد أن نؤمن برحمته بعفوه برضاه بهدايته بأنه سبحانه وتعالى حبيب إلى قلوبنا.. هذا هو المعنى الذي نريد أن نوصله إلى الناس".
شیخ علی جمعہ کے مطابق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جہنم کی آگ کے فناء کا امکان ذکر کرتے ہیں ۔۔۔ اسی طرح ابن تیمیہ رحمہ اللہ بھی اس امکان کی طرف گئے ہیں۔
-
مصری نوجوان پہاڑی چوٹی سے مہلک ڈھلوان پر آگرا، حیران کن طور پر بچ گیا: ویڈیو
مصر میں ایک نوجوان پہاڑ کی چوٹی سے گر کر بھی معجزانہ طورپر موت سے بچ گیا۔ وہ مشرق ...
بين الاقوامى -
مصر: منشیات کے عادی باپ نے شیر خوار بچے کی گردن کاٹ کر جان لے لی
مصر کے "مغربی صوبے" میں ایک اندوہ ناک واقعے میں باپ نے اپنے شیر خوار بچے کی گردن ...
بين الاقوامى -
ریاض میں جی سی سی رہنماؤں، مصری صدر اور شاہ اردن کی دوستانہ ملاقات
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے گزشتہ روز رہنماؤں کو غیر رسمی ...
بين الاقوامى