مکہ مکرمہ میں طبی ماہرین نے مصری خاتون حاجی کی بینائی بحال کر دی
موتیابند اور ریٹنا کے الگ ہو جانے کا مسئلہ حل کر دیا گیا
مکہ مکرمہ میں کنگ عبداللہ میڈیکل سٹی کے آئی ہیلتھ سنٹر میں ایک طبی ٹیم کے فوری اور درست علاج سے ایک مصری خاتون حاجی کی بینائی بحال ہو گئی جنہیں اچانک موتیابند کا سامنا کرنا پڑا، سعودی صحت کے حکام نے جمعرات کو اعلان کیا۔
مکہ ہیلتھ کلسٹر نے سعودی پریس ایجنسی کو ایک بیان میں بتایا، معائنے کے ایک سلسلے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مریضہ کو موتیابند کے ساتھ ریٹنا کے الگ ہو جانے کا مسئلہ تھا۔ یہ آنکھ کی ایک ہنگامی حالت ہوتی ہے جس کا فوری علاج نہ کرنے کی صورت میں بینائی مستقلاً ختم ہو سکتی ہے۔
ایک دن کی سرجری کے بعد مریضہ کو مستحکم حالت میں ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا اور وہ بحفاظت اور آرام سے مناسکِ حج جاری رکھنے کے قابل ہو گئیں۔
ہیلتھ کلسٹر نے کہا، "ان کی اب قریبی طبی نگرانی ہو رہی ہے تاکہ ریٹنا کی حالت اور نظر میں بتدریج بہتری کو یقینی بنایا جائے۔"
سعودی عرب ہر سال حج کے دوران 24 گھنٹے اور روزانہ کام کرنے کے لیے تقریباً 50,000 طبی اور تکنیکی ماہرین تعینات کرتا ہے تاکہ عازمینِ حج کی صحت اور حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
گذشتہ سال وزارتِ صحت نے کہا کہ 142,000 سے زائد عازمین نے صحت کے مراکز اور ہسپتالوں کی فراہم کردہ مختلف طبی خدمات سے استفادہ کیا۔
ان میں سے 4,082 کو ہسپتالوں اور طبی مراکز میں داخل کیا گیا جن میں سے 24 اوپن ہارٹ سرجری، 249 کارڈیک کیتھیٹرائزیشن (ایک پتلا پائپ دل میں داخل کرنا) اور 1,006 ڈائیلاسز سیشنز کیے گئے۔