اسرائیل اور لبنان کے وفود کے درمیان براہ راست بات چیت کے چار ادوار کے بعد امریکہ کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی معاہدے کو حزب اللہ کی طرف سے مسترد کیے جانے کے بعد لبنانی صدر جوزف عون نے رد عمل دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نعیم قاسم تمام لبنانی عوام کی نمائندگی نہیں کرتے۔
جوزف عون نے "سی این این" نیٹ ورک کے ساتھ ایک انٹرویو میں مزید کہا کہ حزب اللہ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات ہی واحد راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے لیے ان کا پیغام یہ ہے کہ ہمارے مفادات آپ کے مفادات سے میل نہیں کھاتے۔ لبنانی عوام تہران کے اپنے ذاتی مفادات کی قیمت چکا رہے ہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب کو یہ سمجھنا چاہیے کہ لبنان ہمارا ملک ہے، ان کا ملک نہیں ہے۔ انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ لبنان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔
اسرائیل سے دشمنی ہمیشہ کے لیے ختم ہونا چاہیے
لبنانی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ لبنانی فریق نے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات میں ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ ایک منصفانہ اور پائیدار امن کی طرف آگے بڑھنے کا راستہ ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے متنبہ کیا کہ فوجی حل کبھی بھی شمالی اسرائیل میں امن نہیں لا سکتے۔
انہوں نے رائے دی کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کی حالت ہمیشہ کے لیے ختم ہونی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ دونوں ملکوں کے پاس امن و امان کے ساتھ رہنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ جہاں تک اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کے امکان کا تعلق ہے تو جوزف عون نے کہا کہ یہ معاملہ اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک جنگ ختم کرنے کا کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔
یہ جنگ ہماری جنگ نہیں
دوسری طرف لبنانی وزیر اعظم نواف السلام نے اس بات کی دوبارہ تصدیق کی کہ جنوب میں لڑی جانے والی یہ جنگ لبنان کی جنگ نہیں ہے۔ نواف سلام نے جمعہ کو "دوسری ہنگامی انسانی پکار کا آغاز" کے نام سے کانفرنس کے دوران تہران پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے جنوبی لبنان کو ایک پتے کے طور پر استعمال کرنا بند کرے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو ہمارے جنوب پر رحم کرنا چاہیے اور اپنے مذاکرات کی شرائط کو بہتر بنانے کے لیے جنوبی لبنان اور اس کے لوگوں کے ساتھ ایک پتے کے طور پر پیش آنا بند کرنا چاہیے۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے جمعرات کو امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی کے معاہدے کی تجویز پر تنقید کرتے ہوئے ان مذاکرات کو ملک کی توہین قرار دیا تھا۔ انہوں نے جنوبی لبنان سے حزب اللہ کے عناصر کے انخلاء کو مسترد کر دیا اور پورے لبنان میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا نہ کہ صرف بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے (ضاحیہ) یا جنوب کے مخصوص علاقوں میں۔ انہوں نے تمام لبنانی اراضی سے اسرائیلی افواج کے انخلاء کا بھی مطالبہ کیا۔
پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی، جنہوں نے 1982 میں حزب اللہ کی بنیاد رکھی تھی، نے کہا ہے کہ لبنان میں مزاحمت کے مطالبات کی کم از کم حد یہ ہے کہ اسرائیل ان پوزیشنوں پر واپس چلا جائے جن پر وہ گزشتہ دو مارچ کو جنگ چھڑنے سے پہلے کنٹرول رکھتا تھا۔
دریں اثنا اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ ان کا ملک جنوبی لبنان سے اپنی افواج واپس نہیں بلائے گا اور اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے پر بمباری نہ کرنے کی شرط حزب اللہ کی جانب سے شمالی اسرائیل پر بمباری روکنے سے جڑی ہوئی ہے۔
گزشتہ بدھ کو واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے وفود کے درمیان براہ راست بات چیت کے 4 دوروں کے بعد جس تازہ ترین معاہدے کا اعلان کیا گیا، اس کے متن کے مطابق حزب اللہ جنوب سے پیچھے ہٹ جائے گی۔ شمالی اسرائیل پر اپنے حملے بند کرے گی اور لبنانی فوج ان متعدد علاقوں میں تعینات ہوگی جنہیں شروع میں تجرباتی قرار دیا گیا۔ بعد میں اسرائیلی افواج بعض جنوبی دیہاتوں سے پیچھے ہٹ جائیں گی۔ معاہدے میں کہا گیا کہ اسرائیل اس انخلاء کے بدلے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے کو نشانہ نہ بنانے کا پابند ہے مگر یہ کہ حزب اللہ شمالی اسرائیل کو نشانہ بنانا جاری رکھے تو یہ پابندی ختم ہوسکتی ہے۔
یاد رہے جنگ بندی کا ایک سابقہ معاہدہ گزشتہ اپریل میں امریکہ کی جانب سے قرار دیا گیا تھا لیکن وہ برقرار نہ رہ سکا کیونکہ اسرائیل نے جنوبی لبنان پر اپنے شدید فضائی حملے جاری رکھے اور اس کی افواج دریائے لیطانی کے جنوب کے وسیع علاقوں میں داخل ہوگئی تھیں۔