.

امیر کویت کی توہین کا الزام، اپوزیشن لیڈر پر فرد جُرم عاید

سابق رکن اسمبلی کو تفتیش کے لیے زیر حراست رکھنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
کویت میں پراسیکیوٹرز نے امیر کی توہین کے الزام میں حزب اختلاف کے ایک لیڈر پر فرد جرم عاید کر دی ہے اور انھیں مزید تفتیش کے لیے جیل بھیج دیا ہے۔

کویت کی تحلیل شدہ قومی اسمبلی (مجلس الامہ) کے شعلہ بیان سابق رکن مسلم البراک نے دو ہفتے قبل حزب اختلاف کی ایک ریلی کے دوران امیر کویت شیخ صباح الاحمد الصباح کے خلاف تند و تیز تقریر کی تھی۔ ان کے ایک وکیل کا کہنا ہے کہ انھیں سوموار کی رات ان کے گھر سے اٹھا لیا گیا تھا۔

پراسیکیوٹرز نے مسلم براک پر ''کویتی امارت کے ستونوں پر چڑھائی کرنے، امیر کی توہین کرنے اور ان کی اتھارٹی کو چیلنج کرنے'' کے الزام میں فرد جرم عاید کی ہے۔ اس وکیل نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ پراسیکیوٹرز نے مسلم براک کو دس روز کے لیے زیر حراست رکھنے کا حکم دیا ہے اور انھیں سنٹرل جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ کویت میں دوسری خلیجی ریاستوں کے مقابلے میں اظہار رائے کی زیادہ آزادی حاصل ہے لیکن اس معاملے میں امیر کویت کو استثنیٰ حاصل ہے اور ان کی توہین کے مرتکب افراد کو الزام ثابت ہونے پر پانچ سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ کویتی حکومت کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ مسلم براک نے آئین میں وضع کیے گئے اصولوں اور قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

کویت شہر میں 21 اکتوبر کو حکومت کے خلاف ایک بڑی ریلی نکالی گئی تھی۔ اس میں شعلہ بیان مسلم البراک نے تراسی سالہ شیخ صباح سے اپیل کی تھی کہ وہ مطلق العنان حکمرانی سے گریز کریں۔ ان سے قبل تین اور سابق ارکان پارلیمان کو بھی امیر کویت کی توہین کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن انھیں پوچھ گچھ کے بعد مقدمے کی سماعت تک ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔ ان کے خلاف تیرہ نومبر سے مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

کویتی امیر نے یکم دسمبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل انتخابی قواعد وضوابط میں تبدیلیوں کا حکم دیا تھا جس کے بعد حزب اختلاف نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا تھا۔ اس کی اپیل پر ریلی میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی۔

سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے تھے جس سے گیارہ پولیس اہلکاروں سمیت انتیس افراد زخمی ہو گئے تھے اور پولیس نے پندرہ افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔ بعد میں ان میں سے زیادہ تر افراد کو رہا کر دیا تھا۔ اس احتجاجی مظاہرے کے بعد سے حکومت نے بیس سے افراد کے اجتماعات پر پابندی عاید کر رکھی ہے۔