.

اسپین میں حسنی مبارک اینڈ کمپنی کے 28 ملین یورو کے اثاثے منجمد

حسنی مبارک خاندان پر بدستور پابندیاں عائد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسپین حکومت نے سابق مصری صدر حسنی مبارک، ان کے اہل خانہ اور دیگر مقربین کے 28 ملین یورو مالیت کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔ حکام نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ یہ خطیر رقم حسنی مبارک کے دور حکومت میں قومی خزانے سے لوٹی گئی تھی جسے بعد ازاں بیرون ملک منتقل کیا گیا تھا۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق مصر نے حسنی مبارک اور ان کے مقربین کے اسپین میں 18.4 ملین یورو مالیت کے اثاثے منجمد کرنے کی درخواست کی تھی۔ اسپین کی نیشنل پولیس برائے انسداد بدعنوانی نے عالمی عدالت کے حکم پر ہسپانونی بنکوں میں موجود اٹھارہ اعشاریہ چار ملین یورو کے اثاثے منجمد کر دیے جبکہ میڈریڈ کی مورالیخا کالونی میں سات ملین یورو مالیت کے دو اپارٹمنٹس اور جنوبی شہر ماربیا میں تین ملین یورو مالیت کی مختلف جائیدادیں اور تین ملین یورو کی پانچ بیش قیمت گاڑیاں ضبط کر لی ہیں۔

میڈریڈ وزارت برائے انسداد بدعنوانی کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ تمام ضبط شدہ املاک سابق مصری صدر محمد حسنی مبارک، ان کے بیٹوں علاء اور جمال مبارک، سابق حکومتی عہدیداروں اور تاجروں سمیت 130 اہم شخصیات کی ملکیت بتائی جاتی ہیں۔ ان تمام شخصیات کے خلاف سابق حکومت کے دور میں بدعنوانی کے الزامات مصری عدالتوں میں مقدمات چل رہے ہیں۔

میڈریڈ حکام کو ہسپانوی بنکوں میں موجود خطیر رقوم کے بارے میں شبہ ہے کہ یہ رقوم حسنی مبارک کے دور میں غیر قانونی طریقے سے قومی خزانے سے حاصل کی گئی ہیں جنہیں بعد ازاں بیرون ملک بنک اکاونٹس میں منتقل کر دیا گیا۔ قومی خزانے سے بھاری رقوم نکالے جانے کے باعث مصر سخت معاشی بحران سے گذرا ہے۔

خیال رہے کہ حسنی مبارک اور ان کے مقربین کے بیرون ملک اثاثوں کی مالیت کروڑوں ڈالرز بتائی جاتی ہے۔ اب تک سوئٹرز لینڈ اور برطانیہ سمیت مختلف دیگر ممالک میں حسنی مبارک اور ان کے مقربین کے 562 ملین یورو ضبط کیے جا چکے ہیں۔