.

تیونسی صدر پر جلسے میں سنگ باری، اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ

جلسہ گاہ 'گو مرزوقی گو' کے نعروں سے گونجتی رہی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
تیونس میں ہزاروں مشتعل افراد نے صدر منصف المرزوقی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر مصطفیٰ بن جعفر کی ایک جلسے میں تقاریر کے دوران ہنگامی آرائی کی اور ان پر پتھراؤ کیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب صدر اور اسپیکر پارلیمنٹ سیدی بو زید شہر میں انقلاب کی دوسری سالگرہ کی ایک تقریب میں موجود تھے۔



فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’’اے ایف پی‘‘ کے نامہ نگارکے مطابق تیونس کے شمال مغربی شہرسیدی بو زید میں انقلاب کی دوسری سالگرہ کے سلسلے میں منعقدہ ایک جلسے میں شرکت کے لیے ابھی صدر جلسہ گاہ میں پہنچے ہی تھے کہ وہاں پر موجود مشتعل افراد نے ان کےخلاف سخت نعرہ بازی شروع کر دی۔ نعرہ بازی صدر کی تقریر کے دوران بھی جاری رہی۔ صدرکے خلاف نعرے لگانے والوں کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل تھی جو سخت جذباتی دکھائی دے رہے تھے۔ انہوں نے صدر اور ان کے معاونین پر پتھراؤ کیا تاہم پولیس اور سیکیورٹی حکام نے مظاہرین کو پیچھے دھکیل دیا۔



عینی شاہدین کے مطابق منصف المرزوقی کے مخالفین نے ہاتھوں میں کتبے اور بینرز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر’’قوم موجودہ حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کرتی ہے‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان اس موقع پر کوئی تصادم نہیں ہوا، تاہم صدر اور ان کے ساتھ آنے والے مہمانوں کو سخت مشکل کاسامنا کرنا پڑا۔



ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ابھی صدر نے جلسے سے خطاب شروع ہی کیا تھا کہ جلسہ گاہ میں موجود تقریباً پانچ ہزارافراد اچانک اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے صدر کے خلاف یک زبان ہو کر نعرہ بازی شروع کر دی۔ مظاہرین ’’گو مرزوقی گو‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ یہ وہی نعرہ ہے جو سابق معزول صدر زین العابدین بن علی کے خلاف انقلابی تحریک میں بھی مقبول ہوا تھا۔



اس موقع پر صدر مرزوقی نے خطاب کرتے ہوئے مظاہرین کو تسلی دی اور کہا کہ چھے ماہ میں نئی حکومت تشکیل دے دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں عوم کے اس آئینی غم وغصے کو سمجھتا ہوں، میں جانتا ہوں کہ اس مرض کا علاج نئی حکومت کی تشکیل ہے اور وہ چھے ماہ میں قائم ہو جائے گی۔ انہوں نے مظاہرین کے مخالفانہ نعروں کی گونج میں کہا کہ ’’آپ ایک ایسی حکومت کو گرانا چاہتے ہیں جو قومی خزانے کی امین ہے اور اس نے قوم کا ایک دھیلا بھی چوری نہیں کیا‘‘۔



خیال رہے کہ تیونس میں انقلابی صدرکےخلاف ماضی میں بھی مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔ سیدی ابو زید میں ستائیس دسمبر 2010ء کو ملک میں انقلابی تحریک کے اصل محرک سبزی فروش محمد بوعزیزی کی قبر پر حاضری دینے گئے تو وہاں بھی انہیں سخت عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔