.

سعودی عرب میں ایران سے وابستہ جاسوس گروپ زیرحراست

ایرانی انٹیلی جنس سے تعلق کے الزام میں 18مشتبہ افراد سے تفتیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیے گئے اٹھارہ افراد سے تفتیش کے دوران ان کے ایرانی انٹیلی جنس سے روابط کا انکشاف ہوا ہے۔

سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے گذشتہ ہفتے سولہ سعودی شہریوں ،ایک لبنانی اور ایک ایرانی کی گرفتاری کی اطلاع دی تھی۔انھیں سعودی مملکت کے چار مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا تھا۔

سرکاری خبررساں ادارے سعودی پریس ایجنسی کی اطلاع کے مطابق ان مشتبہ افراد کو مکہ مکرمہ ،مدینہ منورہ ،ریاض اور مشرقی صوبہ سے پکڑا گیا تھا۔مشرقی صوبے میں اہل تشیع اقلیت میں آباد ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق جنرل انٹیلی جنس پریزیڈینسی اور سعودی وزارت داخلہ نے ایک مشترکہ کارروائی کے دوران ان افراد کو گرفتار کیا تھا اور وزارت داخلہ کو سعودی شہریوں اور غیرملکی تارکین وطن سے ان مشتبہ افراد کے بارے میں اطلاع ملی تھی کہ وہ کسی تیسرے ملک کے لیے جاسوسی میں ملوث ہیں اور وہ مملکت کی اہم تنصیبات سے متعلق معلومات اکٹھی کررہے تھے۔

سعودی عرب کے معروف صحافی جمال خشوجی نے العربیہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں بتایا کہ گرفتار کیے گئے افراد میں سے زیادہ کا تعلق ایک ہی فرقے سے ہے اور وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے جاسوسی کررہے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ان افراد میں ایک ڈاکٹر اور ایک شیعہ عالم ہے اور دوسرے افراد سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو میں کام کررہے تھے۔واضح رہے کہ سعودی عرب کی کل دو کروڑ پچھتر لاکھ آبادی میں سے قریباً بیس لاکھ اہل تشیع ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے اتوار کو ایک بیان میں سعودی عرب میں زیرحراست مشتبہ جاسوسوں کے ایران کے ساتھ کسی قسم کے تعلق کی تردید کی تھی۔

ایران کے سرکاری پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترجمان نے اس بات سے بھی انکار کیا تھا کہ ایک ایرانی شہری جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔انھوں نے سعودی الزام کو ماضی میں میڈیا میں اس قسم کے بیانات کا اعادہ قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کے بے بنیاد ایشوز ایسے ہی ملکی امور سے توجہ ہٹانے کے لیے اٹھائے جارہے ہیں۔