بحرین کے شیخ سلمان ایشیائی فٹ بال کنفیڈریش کے صدر منتخب

فیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن بھی بن گئے، بن ہمام کا گروپ آؤٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بحرین کے شیخ سلمان بن ابراہیم الخلیفہ اپنے دیرینہ حریف محمد بن ہمام کی جگہ جمعرات کو ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن (اے ایف سی) کے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔

اے ایف سی کے نئے صدر کے انتخاب کے لیے ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں جمعرات کو رائے شماری ہوئی۔شیخ سلمان نے بن ہمام کے دواتحادیوں کو شکست دی ہے۔انھوں نے فیڈریشن کے چھیالیس میں سے تینتیس ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مد مقابل متحدہ عرب امارات کے یوسف السرکال کے حق میں چھے اور تھائی لینڈ کے ووراوی ماکڈی کے حق میں صرف سات ووٹ ڈالے گئے۔شیخ سلمان کو دوتہائی اکثریت سے کامیابی کے لیے اکتیس ووٹ درکار تھے۔

انھیں عالمی فٹ بال فیڈریشن (فیفا) کی ایگزیکٹو کمیٹی کا رکن بھی منتخب کر لیا گیا ہے۔ان کے مدمقابل قطر کی عالمی کپ آرگنائزنگ کمیٹی کے سربراہ حسن الثویدی تھے۔شیخ سلمان کے حق میں 28 ووٹ پڑے اور ان کے مدمقابل امیدوار نے 18 ووٹ حاصل کیے۔

شیخ سلمان اب بیس ماہ کے لیے ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن کے صدر رہیں گے اور جنوری 2015ء میں آسٹریلیا میں ایشیا کپ کے انعقاد سے قبل نئے صدر کا انتخاب کیا جائے گا۔ان کے پیش رو محمد بن ہمام دسمبر میں فیفا کا اخلاقی ضابطہ توڑنے کے مرتکب پائے گئے تھے اور فیڈریشن نے ان پر تاحیات پابندی عاید کردی تھی۔اس کے بعد وہ اپنے تمام عہدوں سے مستعفی ہوگئے تھے۔

محمد بن ہمام فیفا کی صدارت کے لیے موجودہ صدر سیپ بلیٹر کے مقابلے میں امیدوار تھے اور ان پر یہ الزام عاید کیا گیا تھا کہ انھوں نے پورٹ آف اسپین میں ایک اجلاس کے دوران کیربین خطے سے تعلق رکھنے والے فیفا کے ارکان کو اپنے حق میں ووٹ ڈالنے کے لیے بھورے لفافوں میں چالیس ہزار ڈالرز فی کس دیے تھے۔یہ الزامات منظرعام پر آنے کے بعد وہ فیفا کی صدارت کی امیدواری سے دستبردار ہوگئے تھے۔

قبل ازیں بن ہمام پر یہ الزام عاید کیا گیا تھا کہ انھوں نے قطر کو 2022ء میں ہونے والے عالمی کپ فٹ بال ٹورنا منٹ کی میزبانی دلانے کے لیے فیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی کے افریقہ سے تعلق رکھنے والے تین ارکان عیسیٰ حیاتو، ژاک انوما اور آموس آدمو کی حمایت حاصل کرنے کے لیے انھیں پندرہ لاکھ ڈالرز کی رقم ادا کی تھی۔

قطر پر لگائے گئے الزامات فیفا کی 107سالہ تاریخ میں بدترین کرپشن اسکینڈل کا حصہ تھے۔فیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی نے مذکورہ تینوں ارکان کے علاوہ سات اور ارکان کے خلاف بدعنوانیوں اورنامناسب رویے کے الزام میں تحقیقات کی تھی اور اس نے ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن کے چئیرمین محمدبن ہمام کو کرپشن کے الزام میں ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

یادرہے کہ فیفا کی ایگزیکٹوکمیٹی کے بائیس ارکان نے 2011ء میں سوئٹزرلینڈ کے شہرزیورخ میں منعقدہ اجلاس میں روس کو 2018ء اور قطر کو 2022ء کے عالمی کپ کی میزبانی کے لیے منتخب کیا تھا۔ یہ فیصلہ خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا گیا تھا۔ یہ پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ فیفا نے ایک ہی وقت میں فٹ بال کے دوعالمی کپ مقابلوں کے لیے میزبان ممالک کافیصلہ کیا تھا۔

قطرعرب دنیا اورمشرق وسطیٰ کا پہلا ملک ہے جہاں فٹ بال کا ورلڈکپ منعقد ہوگا۔فیفاکی انتظامی کمیٹی نے ایک زبردست لابی مہم کے بعد قطر کے حق میں ووٹ دیا تھا اور قطرموسم کی شدت اور فیفا کے بعض ارکان کے کچھ سنجیدہ تحفظات کے باوجود فٹ بال کےعالمی کپ کی میزبانی حاصل کرنے میں کامیاب رہا تھا۔

برطانوی میڈیا نےاپنی اشاعتوں اورنشریوں میں فیفا کی انتظامی کمیٹی کے متعدد ارکان کےخلاف کرپشن کےالزامات لگائے تھےاورچوبیس رکنی کمیٹی کے دو ارکان کوکرپشن کےالزامات پرمعطل کردیا گیا تھا اوران کی تعداد زیورخ اجلاس کے وقت بائیس رہ گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں