اسرائیل کو حزب اللہ سے تحفظ کا حق حاصل ہے: اوباما
امریکی صدر کا شام پر فضائی کی تصدیق یا تردید سے انکار
امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اسرائیل کو لبنانی تنظیم کو ارسال کئے جانے والے جدید اسلحے سے بچاو کرنے کا حق حاصل ہے۔ براک اوباما کا یہ بیان اسرائیل کی جانب سے شام پر راکٹ حملوں کی خبروں کے بعد سامنے آیا ہے۔
اسرائیلی حکام کی پیروی کرتے ہوئے براک اوباما نے بھی اسرائیل کے شام پر حملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا حق اسرائیل کو پہنچتا ہے کہ وہ ان حملوں کی تردید یا تصدیق کرے۔
اپنے دورہ میکسیکو اور وسطی امریکا کے دوران امریکی صدر نے ہسپانوی ٹی وی چینل 'ٹیلی مینڈو' سے بات کرتے ہوئے کہا: " میں اپنی پہلے کہی بات کو ہی دہراوں گا کہ اسرائیلیوں کو حزب اللہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے اپنے علاقائی ہم خیالوں کو جدید اسلحہ منتقلی سے بچاو کا تحفظ حاصل ہے۔
ادھر امریکی اخبار 'نیویارک ٹائمز' نے ہفتے کے روز اپنی اشاعت میں بتایا کہ شام پر کئے جانے والے اسرائیلی فضائی حملے کا ہدیف ایران سے بھیجے گئے میزائیلوں کا ٹرک تھا، جنہیں شام کے راستے حزب اللہ کو لبنان منتقل کیا جانا تھا۔
اخبار نے امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے جمعہ کے روز دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر گولا بارود کے ایک ذخیرے کو نشانہ جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہاں ایرانی ساختہ فاتح 101 میزائل رکھے گئے تھے۔
اسرائیل ایک عرصے سے یہ رٹ لگائے ہوئے ہے کہ وہ لبنان کی انتہا پسند شیعہ تنظیم کے جنگجووں تک شام کا جدید اسلحہ پہنچنے سے روکنے کا حق رکھتا ہے کیونکہ تل ابیب کو خدشہ ہے کہ شام کے جدید ہتھیار حزب اللہ کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔
بعض مغربی سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ چند مہینوں کے دوران شامی صدر بشار الاسد کے لئے ایرانی فوجی امداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے کیونکہ دمشق حکومت کو عالمی سطح پر شدید تنہائی کا سامنا ہے اور ایسے میں اسے صرف روس سے ملنے والی امداد ناکافی ہے۔