برمی مسلمان سعودی معاشرت کا جزو لاینفک بن گئے ہیں

برما میں مظالم کے شکار مسلمان 50 برس قبل مکہ مکرمہ آئے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برما میں مسلمانوں کے خلاف جاری مظالم سے تنگ آ کر تقریبا ڈھائی لاکھ برمی مسلمان پچاس برس قبل سعودی عرب منتقل ہو گئے تھے۔ برما سے فرار ہو کر سعودی عرب سکونت اختیار کرنے والے مسلمان سعودی معاشرے میں رچ بس گئے ہیں۔ ان برمی مسلمانوں نے مکہ مکرمہ میں اپنا وجود منوایا ہے جہاں دنیا بھر کی مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان سعودی معاشرت کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔

برما سے مکہ آنے والے ابراہیم سعودی معاشرت کا جزو لا ینفک بن چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ کا شکر ہے کہ ہم نے یہاں آ کر عربی زبان سیکھی اور ہم یہیں پلے بڑھے۔ یہ زبان سیکھنے کے بعد ہمیں اپنی اصل زبان روہنگیا بھول گئی۔ "اللہ کا بہت زیادہ شکر ہے کہ میری منگنی سعودی خاندان کی ایک دوشیزہ سے طے پا چکی ہے جبکہ میری بہن ایک سعودی شہری سے بیاہی ہیں۔"

سعودی عرب میں روہنگیا مسلم برادی کے سرپنچ ابو الشماع عبدالمجید الارکانی ہیں۔ الارکانی نے بتایا کہ میں شاہ عبداللہ العزیز مرحوم کے دور میں سعودی عرب آیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مٹھی بھر برمی مسلمان 1368 سن ہجری میں برما سے فرار ہو کر سعودی عرب آئے اور انہیں حکومت وقت نے سعودی شہریت عطا کی۔

انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کے سکونتی ویزے کے حوالے سے گزشتہ تین دہائیوں میں ہونے والی متعدد تبدیلیوں کے باعث برمی مسلمانوں کے لئے روزگار کے مواقع کم ہوئے ہیں، تاہم اس کے باوجود سعودی عرب نے برمی مسلمانوں کی برادری کو تعلیم، صحت اور ملازمت کے مواقع فراہم کر کے عظیم خدمت سرانجام دی ہے۔

سعودی حکام نے برمی مسلمانوں کو ایک کیمونٹی کے طور پر تسلیم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کو باقاعدہ سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔ اس فیصلے کے بموجب برمی کیمونٹی اقامتی ویزے سے متعلق سعودی پابندیوں سے آزاد ہوں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں