.

برازیل: حزب اللہ سے تعلق کے شبے میں لبنانی بزنس مین گرفتار

حمزہ تجارتی فراڈ کے ذریعے دہشت گرد تنظیم کی فنڈنگ کر رہا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برازیلین پولیس نے بیس سال سے ملک میں مقیم حمزہ احمد برکات نامی لبنانی شہری کو تجارتی فراڈ کے ذریعے حزب اللہ کو رقوم منتقل کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ جنوبی ریاست پیرانا کے دارالحکومت کیوریٹیبا سے گرفتار ہونے والے حمزہ نے اپنے حزب اللہ سے تعلقات کی مکمل نفی کی ہے۔

پولیس نے تجارتی فراڈ کے ایک نیٹ ورک کو توڑنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کی تجارت کرنے والی بیس میں سے آٹھ کمپینوں کو دیوالیہ ہو چکی ہیں۔ یہ کمپنیاں ملک کی چار ریاستوں میں کاروبار کر رہی تھیں۔ اس فراڈ بزنس سے حاصل ہونے والا منافع 10 ملین برازیلی ریال یعنی لگ بھگ پچاس لاکھ ڈالرز تھا۔

برازیل پولیس نے پچاس سالہ حمزہ برکات کی گرفتاری کی کوششیں اس وقت شروع کیں جب انہیں امریکا سے اس [حمزہ ] کے حزب اللہ سے تعلق اور اس لبنانی تنظیم کو رقوم کی منتقلی میں ملوث ہونے کے بارے میں معلومات ملیں۔ یہی وہ الزام تھا جو 2002ء میں برازیل سے گرفتار ہونے والے حمزہ کے بھائی پر بھی لگایا گیا تھا۔ وہ پیراگوئے سے فرار ہوکر برازیل پہنچا تھا، گرفتاری کے دو سال بعد اسے دوبارہ پیراگوئے کے حوالے کردیا گیا تھا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کی آرکائیو معلومات کے مطابق حمزہ کے بھائی اسعد برکات کی عمر اس وقت 46 سال ہوچکی ہے۔

گرفتار ہونے والے حمزہ ’’کازا حمزہ‘‘ (حمزہ کا گھر) کے نام سے تین دکانیں چلا رہے تھے۔ کیوریٹیبا کی ان دکانوں پر ریڈی میڈ کپڑے اور الیکٹرونکس کی اشیاء کی فروخت کی جاتی تھیں۔ دوسری دکان پیراگوئے، برازیل اور ارجنٹائن کی سرحدوں سے متصل شہر ’’فوز اگاوسو‘‘ میں تھی جبکہ پیراگوئے کے سرحد سے ملحق شہر ’’سیودا ڈیل لیستے‘‘ میں بھی وہ تجارت کر رہے تھے۔ حمزہ پر شک اس وقت ہوا جب اس نے لبنان سے نوجوانوں کے گروپ کو تینوں شہروں میں دکانیں کھلوا کر دیں، یہ لوگ کمپنیوں سے ایک ماہ یا زیادہ کی معیاد پر مال خریدتے تھے اور پھر حمزہ کو کم قیمت پر اشیاء بیچنے کے بعد کمپنیوں کو ادائیگی روک لیتے تھے۔ اس طرح حمزہ قانون کی گرفت میں آئے بغیر ان اشیاء کا مالک بن جاتا تھا۔ حمزہ کا سارا کاروبار لبنان سے آنے والے فنڈ ریزنگ کے نیٹ ورکس کے لیے ڈھال کا کام کر رہا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے دو ایسے لبنانی شہریوں سے رابطہ کیا جو حمزہ برکات سے شناسا تھے اور اس گرفتاری کے متعلق بھی جانتے تھے۔ ان دونوں نے حمزہ کی جانب سے بڑے تجارتی فراڈ کی منصوبہ بندی کی تصدیق کی۔ انہوں نے برازیلین ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی اس فراڈ کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا۔ ان ذرائع ابلاغ کی طرف العربیہ ڈاٹ نیٹ کے علاوہ معروف روزنامے ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ نے حمزہ کی گرفتاری اور اس کی وجہ جاننے کے لیے رجوع کیا ہے۔ ان ذرائع ابلاغ میں اس کی گرفتاری کو گیارہ سال قبل اس کے بھائی کی گرفتاری کے بعد سے لیکر اب تک کی جمع کی گئی معلومات سے بھی جوڑا گیا ہے۔ ایک لبنانی شہری نے بتایا کہ حمزہ کا بھائی اسعد پیراگوئے میں اپنی سزا کے چھ سال گزار چکا ہے۔ اسے پیراگوئے میں ٹیکس کی عدم ادائیگی کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا ناکہ دہشت گردی یا حزب اللہ سے تعلق کی بنیاد پر، وہ خود بھی اس وقت اپنے حزب اللہ سے تعلق کی نفی کر چکا ہے۔


حمزہ کا بھائی پیراگوئے میں زیر حراست


امریکی وزارت خزانہ نے نو سال قبل حمزہ کے بھائی اسعد کو اس فہرست میں شامل کیا تھا جن پر دہشت گردوں کو رقوم کی فراہمی کا الزام تھا۔ اور تمام امریکی بنکوں کو ہدایت کی تھی کہ اس کی ذاتی ملکیت یا اس کی دو کمپنیوں کی ملکیت میں موجود تمام اثاثوں کو منجمد کردیا جائے۔ اس کی دو کمپنیاں ’’کازا ابولو‘‘ پیراگوئے اور ’’برکات امپورٹ ایکسپورٹ‘‘ چلی میں تھی۔

برازیل نے اسے گرفتار کرکے نومبر 2003ء کو اسے پیراگوئے کے حوالے کردیا تھا ان پر الزام تھا کہ وہ دہشت گردی کے لیے فنڈنگ کرتا ہے۔ وہ اس وقت ’’سیودا ڈیل لستے‘‘ میں مقیم تھا اور اپنی گرفتاری کے وقت اس نے دہشت گردی کے لیے فنڈنگ یا اپنے حزب اللہ سے تعلق کے الزامات کو مسترد کردیا تھا۔ اس وقت اسعد پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ اس نے شہر میں حزب اللہ کا یونٹ قائم کیا ہے اور اپنی گرفتاری سے تین سال قبل سے وہ حزب اللہ کے لیے رقوم اکٹھی کر رہا ہے۔ پیرا گوئے کی تفتیشی فائل کے مطابق گرفتاری کے وقت اسعد برازیل میں تھا اور وہاں سے انگولا جانے کی تیاری کر رہا تھا جہاں حزب اللہ کے سرگرم کارکن اس کا انتظار کر رہے تھے۔

پیراگوئے حوالگی سے قبل اسعد سے دو سال برازیل میں جو تحقیقات کی گئیں، اس کے مطابق اس پر کسی بھی دہشت گردی کی کارروائی میں ملوث ہونے کا ثبوت نہیں مل سکا۔ شہر میں حزب اللہ کا سیل قائم کرنے یا لبنان میں کسی بھی مخصوص تنظیم کو رقوم کی فراہمی کے الزامات بھی پایہ ثبوت کو نہیں پہنچ سکے تھے۔ برازیل میں ان سے تفتیش کرنے والے برازیلین جوڈیشل آفیسر جواکیم مسکیٹا نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسعد کی پیراگوئے حوالگی محض جوڈیشنل اور تجارتی کرائم کی بنا پر ہوئے ان پر ٹیکسوں کی عدم ادائیگی، تجارتی برانڈ کے غلط استعمال کے الزامات تھے۔ اس وقت وہ سیودا ڈیل لستے شہر میں متعدد الیکٹرونکس اشیاء کی دکانیں چلا رہے تھے۔

تاہم اس سب کے باوجود امریکا اسعد کے دہشت گردی کے کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگانے پر اصرار کرتا رہا، امریکا کے مطابق اس کے پاس اسعد کی جانب سے فنڈز کی منتقلی کی دستاویز، رسیدیں اور تصاویر ہیں، اس طرح اس کے قبضے سے حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ اور دیگر رہنماؤں کی تقاریر کی ویڈیوز بھی ملی ہیں۔ اسعد کے گھر میں ان سب اشیاء کی موجودگی سے معلوم ہوتا ہے کہ اسعد برکات نے 14 ملین ڈالرز مختلف مراحل میں لبنان منتقل کیے۔ اور جب اس معاملے کا انکشاف ہوا تو سان پاؤلو فرار ہوگیا جہاں سے گرفتار ہونے کے بعد اسے دوبارہ پیرا گوئے کے حوالے کر دیا گیا۔