روس،شامی صدر کو میزائل نہ بھیجے:امریکا ،جرمنی کا انتباہ

جدید میزائل دفاعی نظام کی شام آمد سے خانہ جنگی طول پکڑ جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا اور جرمنی نے روس کو خبردار کیا ہے کہ وہ شامی صدر بشارالاسد کو جدید میزائل دفاعی نظام مہیا نہ کرے کیونکہ اس سسٹم کی آمد سے شام میں خانہ جنگی طول پکڑ جائے گی۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے جمعہ کو واشنگٹن میں اپنے جرمن ہم منصب گائیڈو ویسٹرویلے کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ نیوزکانفرنس میں کہا کہ روس سے ایس 300 طیارہ شکن میزائل دفاعی نظام کی شام کو منتقلی کسی بھی طرح مدد گار ثابت نہیں ہوگی بلکہ اس سے روس اور امریکا کی شامی حکومت اور حزب اختلاف کو امن مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کوششوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ روس کی جانب سے جدید فضائی دفاعی نظام کی صدر بشارالاسد کو فروخت مکمل طور پر غلط ہے کیونکہ اس سے امریکا کے اتحادی اسرائیل کی سکیورٹی بھی خطرات سے دوچار ہوجائے گی۔

جان کیری اور ویسٹرویلے کی اس نیوزکانفرنس سے ایک روز قبل ہی صدر بشارالاسد نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حکومت کو جدید طیارہ شکن میزائل دفاعی نظام کی پہلی کھیپ موصول ہوگئی ہے اور اس سے شام میں جاری خانہ جنگی میں غیرملکی مداخلت مزید مشکل ہوجائے گی۔

امریکی وزیرخارجہ نے ایک جانب تو روس سے شام کو جدید دفاعی نظام کی منتقلی پر اظہار خیال کیا ہے اور دوسری جانب صدر بشارالاسد کے اتحادی ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں بھی امریکا کے موقف کا اعادہ کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکا کے لیے یہ بات بالکل ناقابل قبول ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں۔

انھوں نے کہا کہ انھیں اس بات کی کوئی توقع نہیں ہے کہ ایران میں آیندہ صدارتی انتخابات کے نتیجے میں اس کے جوہری پروگرام میں کوئی نمایاں تبدیلی ہوگی۔اس موقع پر جرمن وزیرخارجہ نے کہا کہ ایران کے جوہری تنازعے کے حل کے لیے مزید مذاکرات کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ روس نے تین روز قبل ہی امریکا ،اس کے ہم نوا مغربی ممالک اور اسرائیل کی مخالفت کے باوجود شام کو پہلے سے طے شدہ معاہدے کے مطابق ایس 300 طیارہ شکن میزائل دفاعی نظام بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف اور نائب وزیرخارجہ سرگئی ریابکوف نے منگل کو اپنے الگ الگ بیان میں کہا کہ اس میزائل دفاعی نظام سے شام میں گذشتہ دوسال سے جاری خانہ جنگی میں مداخلت کے خواہاں ''آشفتہ سروں'' کو روکنے میں مدد ملے گی اور یہ نظام ان کے لیے سدِّ جارحیت ثابت ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں