سعودی وزارت حج کا غیر ملکی معتمرین کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ

مناسک عمرہ کی ادائی کے بعد 15 دن سے زیادہ قیام کی اجازت نہیں ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی وزارت حج نے امسال رمضان المبارک کے دوران بڑی تعداد میں دنیا بھر عمرہ ادا کرنے کے لئے مکہ مکرمہ عازمین عمرہ کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارتی حکمنامے کے مطابق کوئی بھی غیر ملکی مناسک عمرہ ادا کرنے کے بعد پندرہ دن سے زیادہ سعودی عرب میں نہیں ٹہر سکے گا۔

ذرائع کے مطابق اس فیصلے کی وجہ حرم مکی میں توسیعی کام ہے۔ ادھر مکہ چیمبر آف کامرس کے ڈپٹی چئرمین طلعت تیونسی نے بتایا کہ اس فیصلے کی وجہ سے امسال عمرہ ٹورز آپریٹ کرنے والی متعدد کمپنیوں کو مالی نقصان ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ انہیں پہلے سے ایسی صورتحال کے بارے مطلع نہیں کیا گیا۔

وزارت کے ترجمان اور سیکرٹری حاتم حسن قاضی نے’’العربیہ‘‘ نیوز چینل کو بذریعہ ٹیلی فون بتایا کہ یہ فیصلہ عمرہ کی ادائی کے لیے آنے والوں کی بڑی تعداد کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔ نیز خادم الحرمین الشریفین کے احکامات کے بعد حرم مکی میں جاری توسیعی کام کا بھی اس فیصلے کا موجب بنا ہے۔

حاتم حسن قاضی نے مزید بتایا کہ وزارت نے کمپنیوں کی جانب سے آنے والی عازمین عمرہ کے ویزوں کو منظم کرنا شروع کردیا ہے تاکہ کسی کو بھی اپنے عمرہ پلان کے برعکس صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسی لئے ادائی عمرہ کے لیے پہلے آنے والوں کی جلد واپسی کو ممکن بنایا جائے گا تاکہ تمام ٹورز آپریٹرز کی دعوت پرعمرہ کے لیے مکہ مکرمہ آنے والوں کو ویزے مل سکیں۔

حج و عمرہ کی قومی کمیٹی کے سربراہ اسامہ ویلالی نے بھی ’’العربیہ‘‘ چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مطاف کی توسیع کے حرم مکی پر بڑے مثبت اثرات پڑیں گے تاہم اس سے عمرہ کرنے والوں کو نقصان بھی ہوگا. انہوں نے کہا کہ کمپنیوں کے نمائندگان کی طرح ہم بھی وزارت حج پر ہی الزام دھرنے والوں میں ہیں کہ اس فیصلے سے کمپنیوں کو کافی دیر سے آگاہ کیا ہے۔ اس فیصلے میں تاخیر سے ہمیں بڑے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ حج وعمرہ کی سہولیات فراہم کرنے والی کمپنیاں اللہ کے گھر کا رخ کرنے والوں کے لیے ہوٹلز اور دیگر سہولیات کی پہلے ہی بکنگ کروا چکی ہیں۔

اسامہ ویلالی نے واضح کیا کہ بروقت فیصلہ سازی اور اطلاع نہ ہونے کی وجہ سے ہونے والا نقصان پانچ ملین ریال تک پہنچ گیا ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ کمپنیوں کو اطلاع اس وقت دی گئی جب وہ پہلے ہی عازمین عمرہ کے لیے پروازوں اور ہوٹلوں کی بکنگ کروا چکی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ کمپنیوں کو رمضان سے چار ہفتے قبل اطلاع دی جا رہی ہے جو نقصان کا مداوا کرنے کے لیے انتہائی کم مدت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں