.

شام کو مقبوضہ علاقہ خیال کیا جاسکتا ہے:سعودی وزیرخارجہ

حزب اللہ اور ایران کی شام میں مداخلت پر سعودی عرب خاموش نہیں رہ سکتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیرخارجہ شہزادہ سعود الفیصل کا کہنا ہے کہ شام کو مقبوضہ علاقہ سمجھا جا سکتا ہے۔

انھوں نے یہ بات منگل کو جدہ میں امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہی ہے۔انھوں نے شام میں لبنانی ملیشیا حزب اللہ اور ایران کی مداخلت کو خطرناک قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ شامی حزب اختلاف کو اپنے دفاع کے لیے فوجی امداد مہیا کی جانی چاہیے۔انھوں نے کہا کہ سعودی عرب شام میں ایران کی مداخلت پر خاموش نہیں رہ سکتا۔انھوں نے شامی حکومت کو اسلحے کی ترسیل روکنے کے لیے (اقوام متحدہ) میں قرار داد کی منظوری پر زور دیا ہے۔

جان کیری شامی تنازعے پر بات چیت کے لیے آج سعودی عرب پہنچے ہیں اور وہ شامی حزب اختلاف کو امداد مہیا کرنے کے لیے اپنے دوست ممالک سے مذاکرات کررہے ہیں اور جدہ میں بھی وہ سعودی حکام کے ساتھ شامی باغیوں کو امداد کی فراہمی کے سلسلہ میں بات چیت کرنے والے تھے۔

امریکا نے دوہفتے قبل ہی شامی باغیوں کو اسلحہ مہیا کرنے کا اعلان کیا تھا۔تاہم امریکی صدر براک اوباما شام میں براہ راست مداخلت کے حق میں نہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ خطے میں اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر شامی باغیوں کی اسلحی و غیر اسلحی مدد کریں۔