.

تہران کے خلاف پابندیاں لگانے کا امریکی مطالبہ

ایران پر مزید پابندیوں کے حق میں نہیں: چین و روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور مغربی ممالک نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ شام کو اسلحہ فراہمی کے باعث ایران اور اس کی لبنانی اتحادی حزب اللہ کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔ امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور پابندیاں عائد کرنے سے متعلقہ کمیٹی سے کہا کہ ''ایران کو اقوام متحدہ کی خلاف ورزیوں سے روکا جائے۔''

خبر رساں اداروں کے مطابق سلامتی کونسل کی پابندیوں سے متعلق کمیٹی سے امریکی قائم مقام سفیر روز میری ڈی کارلو نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ''کمیٹی، ایران کی جانب سے شام، لبنان، غزہ، یمن،عراق اور بعض دیگر علاقوں کو اسلحے کی مسلسل ترسیل، فوجی امداد بصورت فوجی تربیت وفوجی مشیران بھجوانےکا جائزہ لیا جائے۔''

یو این میں قائم مقام امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ'' ایران یہ جانتے بوجھتے شام کو طویل عرصے سے اسلحہ دے رہا ہے کہ یہ اسلحہ بشارالاسد رجیم نے شامی عوام کے خلاف استعمال کرنا ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ سلامتی کونسل نئی بحرانی صورتحال میں ایران کی جانب سےحزب اللہ اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کو اسلحے کی ترسیل کا سلسلہ روکے، نیز یہ بھی دیکھا جائے کہ ایران کے اس رویے سے دوسرے ممالک خصوصا لبنان کی خود مختاری پرکیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایران جو کچھ کر رہا ہے یہ پابندیوں کی خلاف ورزی سے بڑھ کر ہے۔''

اقوام متحدہ میں برطانوی سفیر مارک لائل گرانٹ نے ''سلامتی کونسل کے اجلاس میں موقف اختیار کیا کہ اس امر کی مصدقہ اطلاعات ہیں کہ ایران حزب اللہ اور شامی رجیم کو فوجی اور معاشی حوالے سےاقوام متحدہ کی جانب سے پابندی کے باوجود قابل لحاظ امداد فراہم کر رہا ہے،'' فرانس کے سفیر نے بھی سلامتی کونسل کے ارکان سے مطالبہ کیا کہ سلامتی کونسل کو اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں انجام دینا چاہییں۔

تاہم دلچسپ بات ہے کہ سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران کوئی ایرانی نمائندہ موجود نہ تھا۔ جبکہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس اور چین کے نمائندوں نے ایران کے خلاف کیے جانے والے دعووں کی تائید نہ کی؛ دونوں نے ایران کی میزائل لانچنگ کو اقوام متحدہ کی کسی قرار داد کے خلاف قرار دینے سے انکار کر دیا، جیسا کہ اقوام متحدہ کے ماہرین کے پینل نے ایران کے خلاف موقف اختیار کیا تھا۔اس بارے میں روسی نمائندے کا کہنا تھا ''جلد بازی میں اخذ کیے گئے نتائج حقائق پر مبنی نہیں ہو سکتے۔ اس لیے انہیں نظر انداز کر نا چاہیے۔''چین کے نمائندے نے دو ٹوک انداز میں اپنے موقف کا اعادہ کیا کہ ''ان کا ملک ایران پر مزید دباو بڑھانے کے حق میں نہیں ہے۔''