میری گرفتاری امریکی و ایرانی سازش کا نتیجہ ہے: داماد اسامہ بن لادن

امریکی عدالت سے مقدمہ ختم کرنے اور طیارے میں امریکی تشدد کا نوٹس لینے کی درخواست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسامہ بن لادن کے داماد سلیمان ابو غیث نے الزام عاید کیا ہے کہ نائن الیون کے ایک دہائی بعد اس کی گرفتاری ایران اور امریکی حکام کی سازش کا نتیجہ ہے۔

ابو غیث نے امریکی عدالت میں دائر کردہ اپنی درخوست میں اپنی گرفتاری کے بعد طیارے میں امریکی اہلکاروں کی جانب سے کیے جانے والے تشدد کا حوالہ دیا اور کہا کہ خود امریکیوں نے اس پر تشدد کیا ہے جبکہ اس پر تشدد کا الزام بلا جواز ہے اس لیے اس کے خلاف دائر کیا گیا مقدمہ ختم کیا جائے۔

47 سالہ کویتی شہری سلیمان ابو غیث، جس پر امریکیوں کے قتل کی سازش کا الزام ہے، کو ماہ فروری میں اردن سے گرفتاری کے بعد امریکہ لایا گیا تھا۔ امریکی ماہرین کے مطابق قیدی ابو غیث کی طرف سے دائر کی گئی درخواست کی بنیاد پر دہشت گردی کی جنگ میں امریکی کردار زیر بحث آئے گا۔ دوسری جانب امریکی پراسیکیوٹر نے مقدمے کے خاتمے کی اس درخواست پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکی عدالت اسامہ بن لادن کے داماد کی درخواست پر دو ہفتے تک سماعت کا فیصلہ کرنے یا سماعت کی تاریخ دینے کی پابند ہے جبکہ امریکہ کے سرکاری پراسیکیوٹر کو اس بارے میں تین ہفتوں میں اپنا موقف سامنے لانا ہو گا۔

ماہ فروری میں گرفتاری کے مارچ میں ابو غیث پر فرد جرم عائد کی گئی تھی ۔ جس کے بعد ری پبلکن کی معروف شخصیات نے عدالت میں ابو غیث کے خلاف درخواست کی تھِی کی اسے ایک جنگجو دشمن قرار دے کر گوانتانامو بے میں بند کیا جائے۔

واضح رہے ابو غیث سے منسوب تقریر کے ان الفاظ ''طوفان رکے گا نہیں، خصوصا جہازوں والا طوفان'' کو امریکی حکومت نے اس پر الزام کی بنیاد بنایا ہے۔ ابو غیث کو سزا دلوانے کے لیے عدالت میں سرگرم وکلا کا کہنا ہے کہ اسے مجرم ثابت کرنے کے لیے اسامہ بن لادن کے ساتھ قریبی تعلق ہونا ہی کافی ہے، ابو غیث پر عاید کیے گئے الزام کے تحت اسے عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے ۔ جبکہ ابو غیث کے وکلا کا موقف ہے کہ اس طرح کا بیان یہ چیز ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں کہ ابو غیث امیریکیوں کے قتل میں براہ راست ملوث ہے۔

ابوغیث کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں مین ہٹن کی ضلعی عدالت میِں مقدمہ ختم کرنے کے مطالبے کے علاوہ یہ موقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزار کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں