.

مسجد حرام کا تاریخی توسیعی منصوبہ، 20 لاکھ نمازیوں کی گنجائش

مستقبل میں مزید توسیع کی خصوصی گنجائش رکھی گئی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے خصوصی حکم پر شروع کیا جانے والا حرمین شریفین کی تاریخ کا غیر معمولی توسیعی منصوبہ تکمیل کے مراحل میں ہے۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد مسجد حرام میں ایک ہی وقت میں بیس لاکھ افراد نماز ادا کرسکیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع ماضی میں بھی ہوتی رہی ہے لیکن خادم الحرمین الشریفین کے حکم پرجاری توسیع منصوبہ اب تک کا سب سے بڑا توسیعی پراجیکٹ ہے۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد مسجد حرام 10 لاکھ مربع میٹر وسیع و عریض رقبے پرمحیط ہو گی۔

مسجد حرم کی توسیعی منصوبے کے بارے میں مکہ مکرمہ کے ڈائریکٹر جنرل برائے امن عامہ جنرل سعید القحطانی کا کہنا تھا کہ "توسیع حرم کے جاری منصوبے کی تکمیل کا مقصد زیادہ سے زیادہ حجاج اور معتمرین کو بیت اللہ کے طواف کا موقع فراہم کرنا ہے۔ توقع ہے کہ منصوبے کی تکمیل کے بعد جمعہ اور دیگر بڑے اجتماعات میں بیک وقت دو ملین سے زائد افراد اطمینان کے ساتھ ایک جماعت میں نماز ادا کرسکیں گے۔

مسجد حرام کی سیکیورٹی سے متعلق ایک دوسرے عہدیدار میجر جنرل سعد الخلیوی کا کہنا ہے کہ حکومت نے صرف مسجد حرام کی توسیع نہیں کی بلکہ نمازیوں، معتمرین اور حجاج کرام کو ہر وہ سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس کی انہیں مناسک اور عبادات کی ادائی کے لیے ضرورت پڑتی ہے۔

درایں اثنا مکہ مکرمہ گورنری کے سیکرٹری ڈاکٹر عبدالعزیزالخضیری نے بتایا کہ حرم کی توسیع کا پراجیکٹ 80 فی صدمکمل ہوچکا ہے، اب معتمرین اور نمازی حضرات توسیع کے بعد مکمل ہونے والے حصے کو استعمال کر سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مسجد حرام کی توسیع کا منصوبہ ماضی میں ہونے والی توسیع سے کئی حوالوں سے منفرد ہے۔ حکومت نے مسجد کے آس پاس کے مکانات اور زمینیں خرید کر حرم میں شامل کی ہے، لیکن ارد گرد اب ابھی ایک بڑا رقبہ خالی رکھا گیا ہے تاکہ مستقبل میں حرم کی توسیع کے لیے کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے بلکہ پہلے سے حاصل کردہ زمین کو اس کی توسیع کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ مسجد حرم کی توسیع کا جاری منصوبہ اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ تعمیراتی کام جاری رہتے ہوئے بھی اس مقام مقدس کی روحانی فضا جوں کہ توں برقرار ہے۔