.

مصر: عبوری حکومت تیونس سے ناراض، سفیر واپس بلا لیا

تیونس کے صدر نے مصری معزول صدر کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی عبوری حکومت نے تیونس سے اپنے سفیر کو فوری طور پر واپس بلا لیا ہے۔ عبوری حکومت نے یہ فیصلہ تیونس کے صدر المرزوقی کی طرف سے فوج کے ہاتھوں معزول کیے گئے صدر مرسی کی رہائی کا مطالبہ کے بعد اظہار ناراضگی کے طور پر کیا ہے، تاہم کہا یہ گیا ہے کہ سفیر کو واپس بلانے کا مقصد ضروری صلاح مشورہ کرنا ہے۔

اس سے پہلے متحدہ عرب امارات بھی تیونس سے اپنے سفیر کو واپس بلا چکی ہے۔ متحدہ عرب امارات مصری فوج کی حمایت سے بننے والی عبوری حکومت کی زبردست حامی سمجھی جاتی ہیں۔ اسی لیے تیونس کی طرف سے ڈاکٹر مرسی کے حق میں بیانات دینے پر اس نے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔

امارات سے شائع ہونے والے ممتاز اخبار خلیج ٹائمز کے مطابق امارات کے سفیر کی واپسی کی وجہ تیونس کی نئی قیادت کے مصری سیاست کے بارے میں ناقابل قبول خیالات بنے ہیں۔

مصر کے معزول کیے گئے صدر مرسی جنہیں 3 جولائی سے برطرفی کے بعد نامعلوم مقام پر قید کیا گیا ہے آج کل 2012 میں شہریوں کے سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہونے والے تصادم کے حوالے سے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں نے جولائی 2013 سے اب تک ان کے ہزاروں حامیوں کو حراست میں لیا ہے اور ان کی جماعت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

تیونس کے صدر امرزوقی نے گزشتہ دنوں امریکا میں اپنے ایک انٹرویو کے دوران بھی مصر کی منتخب حکومت کو برطرف کرنے کی مذمت کی تھی۔