عراقی وزیر خارجہ فواد حسین آج پیر کے روز ایک سرکاری دورے پر شام کے دارالحکومت دمشق پہنچ گئے ہیں۔ یہ دورہ شام کے وزیر خارجہ و تارکین وطن اسعد الشیبانی کی دعوت پر کیا گیا ہے، جس کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے دائرہ کار کو وسیع کرنا ہے۔
'العربیہ' کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ عراقی وزیر کا یہ دورہ نئی شامی حکومت کے حلف اٹھانے کے بعد ان کا پہلا سرکاری دورہ ہے، جو بغداد اور دمشق کے درمیان کئی مشترکہ امور میں رابطہ کاری کو بڑھانے کی کوششوں کے تناظر میں ہو رہا ہے۔
عراقی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق فواد حسین شامی اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جس میں سیاسی، سکیورٹی، اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، تاکہ دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کا تحفظ ہو سکے۔
مشترکہ چیلنجز
مذاکرات میں علاقائی اور بین الاقوامی تازہ ترین پیش رفت، مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے عراق اور شام کے درمیان رابطہ کاری اور مشاورت کو مضبوط بنانے کے طریقوں کے ساتھ ساتھ خطے میں سلامتی اور استحکام کی حمایت کے طریقہ کار پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک سکیورٹی کے امور میں بڑھتی ہوئی ہم آہنگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، خاص طور پر داعش کے خلاف جنگ، مشترکہ سرحدوں کی حفاظت، اسمگلنگ کے خلاف اقدامات، نیز اقتصادی تعاون کو فروغ دینے اور دونوں جانب تجارت اور نقل و حمل کی نقل و حرکت کو دوبارہ بحال کرنے کےامور پر بات چیت کی جائے گی۔
عراق کئی مواقع پر شام کے استحکام اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کر چکا ہے۔ بغداد علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے اور اقتصادی تعلقات کو فعال کرنے پر مبنی ویژن کے تحت دمشق کے ساتھ تعاون کو وسیع کرنے کا خواہاں ہے، جو کہ عرب ممالک کی شام کو اس کے علاقائی ماحول میں دوبارہ شامل کرنے کی کوششوں کے متوازی ہے۔
توقع ہے کہ اس دورے کے دوران باہمی دلچسپی کے کئی اہم امور پر بات چیت ہوگی، جن میں سرحدی سکیورٹی، تجارتی تبادلے کی سہولت، توانائی اور نقل و حمل کے شعبوں میں تعاون کے علاوہ خطے میں کشیدہ حالات اور ان کے دونوں ممالک پر پڑنے والے اثرات شامل ہیں۔