.

سوڈان کو سازشوں کا سامنا ہے، مہنگائی بہانہ ہے: عمر البشیر

معاشی بحران سے بچنے کیلیے تیل کی قیمتیں بڑھائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈانی صدر عمر البشیر نے سوڈان میں تباہ کن فسادات کی شروعات کے بعد پہلی بار بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ سوڈان میں تیل کی قیمتیں بڑھانے کا مقصد ملک کو معاشی بدحالی سے بچانا ہے۔ لیکن ملک کے خلاف سازشیں کرنے والے متحرک ہو گئے ہیں۔

ایک عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نے سوڈان کی سرکاری نیوز ایجنسی "سونا" کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ صدر بشیر نے کہا کہ،" ان تازہ ترین معاشی اقدامات کا مقصد مہنگائی اور کرنسی شرح تبادلہ میں اضافے کے بعد ملک کی معیشت کو گرنے سے بچانا تھا۔"

سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق صدر نے فوجی اور ریاستی سیکیورٹی افسران کی پاسنگ آوٹ پریڈ کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے خلاف جاری سازشوں کا بھی ذکر کیا ہے۔

صدر عمرالبشیر کا کہنا ہے کہ معیشت پر جنوبی سوڈان کی علیحدگی اور تیل سے ہونے والی آمدنی کے نقصانات کی وجہ سے بہت منفی اثر پڑا ہے۔

سوڈانی حکومت نے ماہ ستمبر میں تیل پر دی جانے والی سبسڈی واپس لے لی تھی جیسا کہ آئی ایم ایف سے اپنے وعدے پر عمل کرتے ہوئے اہم اسلامی ملک پاکستان نے بھی انہی دنوں میں بجلی اور تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کیا اور سبسڈی واپس لی ہے لیکن پاکستان میں ایسا کوئی ردعمل نہیں ہے جیسا کہ حال ہی میں سوڈان میں تیل کی قیمتوں میں ساٹھ فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اوراس اقدام کے جواب میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ عوامی حلقوں نے صدر اور ان کی حکومت سے مستعفی ہونے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

سوڈانی حکومت کے مطابق انہوں نے وسطی سوڈان میں پرتشدد مظاہروں کے دوران اب تک تقریبا 700 شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پچھلے ہفتے کے دوران 33 افراد ہلاک ہوچکے ہیں مگر حزب اختلاف اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں کہتی ہیں کم از کم 50 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

سوڈانی وزیر اطلاعات احمد بلال عثمان کا کہنا ہے کہ حکومت سبسڈی ختم کرنے کے فیصلے کو واپس نہیں لے گی۔ یہ فیصلہ سوڈانی معیشت اور 2011 میں جنوبی سوڈان کی علیحدگی کے بعد سے کمزور ہونے والی ملکی کرنسی کو سنبھالا دینے کے لیے کیا گیا ہے۔