"سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دی جائے"

ڈرائیونگ پر پابندی ختم کرنیکا مطالبہ شوری کونسل کی 3 خواتین اراکین نے کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب شوری کونسل کی اعلیٰ مشاوراتی باڈی نے خواتین کو ڈرائیونگ کرنے کی اجازت دینے کی حمایت کر دی ہے۔ یہ سفارش شوری کونسل کی تین خواتین اراکین کی طرف سے شوری کونسل کے ذمہ داران کو پیش کیے گئے مطالبے کا شرعی وملکی قوانین اور ملک میں ڈرائیونگ کلچر سے متعلق دستیاب مواد کا جائزہ لینے کے بعد کی گئی ہے۔

سعودی عرب کی مشاورتی شوری کونسل کی تین خواتین ارکان نے اس مطالبے پر مبنی ایک یادداشت پیش کی تھی۔ کہ قدامت پسندی کے رجحانات کی حامل ریاست میں خواتین کے گاڑی چلانے پر عائد پابندی کو ختم کیا جائے۔

شوری کونسل کی ان تین خواتین کا یہ مطالبہ سعودی عرب میں خواتین کے گاڑیاں چلانے پر دیرینہ پابندی کے خلاف سعودی عرب میں سرگرم سماجی کارکنوں کی کوششوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

شوری کونسل کی خاتون رکن لطیفہ الشالان نے ایک عالمی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ کونسل کی دو اراکین ساتھی حیا المانی اور منیٰ المشیت کے ساتھ مل کر کونسل کی اعلیٰ مشاورتی باڈی سے مطالبہ کیا تھا کہ شریعت اور ٹریفک قوانین کے مطابق خواتین کے حقوق کو تسلیم کیا جائے اور ان کے گاڑی چلانے پر عاید پابندی ختم کی جائے۔

شالان کا کہنا تھا '' سعودی عرب میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے جس سے خواتین کے گاڑی چلانے کی ممانعت کی گنجائش نکلتی ہو، یہ صرف اور صرف ملکی روایات کی وجہ سے ہے۔

انہوں نے مزید کہا '' سعودی خواتین نے بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں، یہ سعودی خواتین سعودی حکومت سے لے کر اقوام متحدہ تک اعلیٰ درجوں پر فائز ہیں۔ لیکن پھر بھی ان کو ڈرائیونگ کی اجازت نہیں دی جاتی۔

واضح رہے ماہ جنوری میں شاہ عبداللہ نے 30 سعودی خواتین کی مشاوراتی کونسل میں نامزدگی کی تھی تاہم سعودی عرب کی یہ شوری کونسل بادشاہ کو پالیسیوں پر مشورہ تو دے سکتی ہے لیکن قانون سازی کا حق نہیں رکھتی ہے۔

ماہ مارچ میں 3000 سعودی شہریوں کی طرف سے کونسل میں ایک درخواست دائرکی گئی جس میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ سعودی عرب میں خواتین کے گاڑی ڈرائیو کرنے پرعائد پابندی پر بحث کی جائے۔ کیونکہ پوری دنیا میں صرف سعودی عرب ہی ایسا ملک ہے جس میں خواتین پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے۔

سرگرم کارکنان نے بتایا کہ تقریباً 20 کے قریب خواتین سعودی عرب کے مشرقی صوبہ میں ایک مہم میں حصہ لینے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ یاد رہے کہ جون 2011 میں شروع کی جانے والی ایسی ہی ایک مہم میں صرف چند خواتین نے حصہ لیا تھا۔ جن میں سے کچھ کو پولیس کی مدد سے روکا گیا اور بعد ازاں انہیں اس ضمانت پر رہا کیا گیا کہ وہ آئندہ کسی ایسی مہم میں شرکت نہِیں کریں گی۔

نومبر 1990 تک ہونے والی مہمات میں سے 2011 کی مہم کارروائیوں کے اعتبار سے سب سے بڑی مہم ہے جس نے فیس بک اور ٹویٹر کے ذریعے زور پکڑا اور 47 سعودی خواتین کو احتجاج کے دوران گرفتار کیا گیا۔ ان میں سے کئی کو سزائیں بھی دی گئیں۔

شاہ عبداللہ سعودی عرب میں مثبت تبدیلیاں لانے کے لئے گامزن ہیں جس میں سعودی عرب میں پہلی بار کروائے جانے والے بلدیاتی انتخابات ہیں۔

یاد رہے کہ شاہ عبداللہ نے سعودی خواتین کے سعودی معاشرہ میں کردار کو محدود کرنے سے انکار کرتے ہوئے 2011 میں سعودی خواتین کو 2015 تک ہونے والے مقامی انتخابات میں بطور امیدوار کھڑا ہونے اور ووٹ ڈالنے کی اجازت دے دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں