غزہ میں پناہ گزینوں کی مشکلات... گولہ باری سے لے کر چوہوں اور حشرات کے حملوں تک

اقوام متحدہ کے مطابق کیمپوں میں بسنے والوں کو چوہوں اور طفیلی کیڑوں کی بھرمار کا سامنا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

غزہ کی پٹی میں حماس تنظیم اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے نفاذ کو چھ ماہ سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود، گنجان آباد کیمپوں میں مقیم پناہ گزینوں کو سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔ ان میں سب سے تشویش ناک مسئلہ خیموں میں چوہوں اور کیڑے مکوڑوں کی بھرمار ہے۔

موسم گرما کے قریب آتے ہی درجہ حرارت میں اضافے نے ان کیڑوں کی افزائش کے لیے سازگار ماحول فراہم کر دیا ہے، جس نے کیمپوں کی پہلے سے ابتر ماحولیاتی اور صحت عامہ کی صورت حال کو مزید تباہ کن بنا دیا ہے۔ خان یونس کے ایک رہائشی محمد الرقب نے بتایا کہ سوتے ہوئے ان کے تین سالہ بچے کے ناک پر چوہے نے کاٹ لیا، جس کے بعد وہ رات بھر جاگ کر اپنے بچوں کی پہرے داری کرنے پر مجبور ہیں۔ چوہوں نے نہ صرف پناہ گزینوں کے خیمے اور سامان کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بھی بن رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی پٹی میں 22 لاکھ کی آبادی میں سے تقریباً 17 لاکھ افراد اب بھی پناہ گزین کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ اکتوبر 2025 میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود غزہ کی پٹی کا تقریباً نصف حصہ تا حال اسرائیلی فوجی کنٹرول میں ہے اور پناہ گزینوں کے گھر تباہ ہو چکے ہیں۔ تنظیم "اوچا" (OCHA) کے مطابق ان کیمپوں میں چوہوں اور طفیلی کیڑوں کی بہتات ہے، جس سے کپڑے، فرنیچر اور دیگر ضروری سامان بھی محفوظ نہیں رہا۔ پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ پسوؤں کے کاٹنے سے بڑوں اور بچوں میں جلدی الرجی پھیل رہی ہے۔

ساحلی پٹی پر واقع ان کیمپوں میں لاکھوں ٹن ملبہ اور کچرا جمع ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے سرحدی گزرگاہوں کی سخت نگرانی اور سامان کی واپسی کی وجہ سے امداد کی ترسیل متاثر ہے۔ بلدیہ غزہ نے شہر کے وسط میں کچرے کے ڈھیروں، تباہ شدہ انفراسٹرکچر اور سڑکوں پر بہتے گندے پانیکو اس بحران کی بڑی وجہ قرار دیا ہے۔

اسپتالوں کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ صفائی کے فقدان، پانی کی قلت اور بڑھتی ہوئی گرمی کی وجہ سے بچوں میں جلدی امراض، خارش اور وائرل انفیکشن میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ادویات اور علاج کی شدید کمی نے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

جنگ بندی کے بعد سے حماس تنظیم اور اسرائیل ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات لگا رہے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے دوران بھی اب تک کم از کم 777 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہوئی تھی جس کے نتیجے میں اسرائیل کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1,221 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اسرائیل کی جوابی کارروائیوں میں اب تک غزہ کی پٹی میں 72,553 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں