فلسطین ایکشن پر ’غیر متناسب‘ پابندی منسوخ کی جائے: اقوامِ متحدہ کا برطانیہ پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اقوامِ متحدہ کے سربراہ برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے جمعہ کے روز سرگرم مہم کار گروپ فلسطین ایکشن پر برطانیہ کی پابندی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور حکومت پر اس اقدام کو واپس لینے پر زور دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے برطانیہ میں انسدادِ دہشت گردی قانون کے "پریشان کن" غلط استعمال پر تشویش ظاہر کی۔

وولکر ترک نے ایک بیان میں کہا، "یہ فیصلہ غیر متناسب اور غیر ضروری معلوم ہوتا ہے۔"

برطانیہ کے دہشت گردی ایکٹ 2000 کے تحت عائد کردہ یہ پابندی اس ماہ کے شروع میں اس وقت نافذ ہوئی جب گروپ کے کارکنان نے جنوبی انگلینڈ میں ایک فضائی فوجی مرکز پر حملہ کیا۔

ترک نے بیان میں کہا، پابندی سے "سنگین خدشات پیدا ہوئے ہیں کہ انسدادِ دہشت گردی قوانین کا اطلاق ایسے طرزِ عمل پر کیا جا رہا ہے جو نوعیت کے لحاظ سے دہشت گردی نہیں ہے اور پورے برطانیہ میں بنیادی آزادیوں کے جائز استعمال میں اس کے حائل ہونے کے خطرات ہیں۔"

انہوں نے زور دیا کہ "بین الاقوامی معیارات کے مطابق دہشت گردی کی کارروائیوں کو ایسی مجرمانہ سرگرمیوں تک محدود ہونا چاہیے جن کا مقصد موت یا شدید زخمی کرنا یا یرغمال بنانا، کسی آبادی کو خوفزدہ کرنا یا حکومت کو کوئی خاص اقدام کرنے یا نہ کرنے پر مجبور کرنا ہو"۔

لیکن دوسری چیزوں کے ساتھ اس پابندی سے فلسطین ایکشن کا رکن ہونا، گروپ کے لیے حمایت کا اظہار کرنا یا ایسا لباس پہننا جس سے "معقول شبہات" پیدا ہوں کہ وہ شخص اس گروپ کا رکن یا حامی ہے، قابلِ سزا جرم بن جاتا ہے، ترک نے نشاندہی کی۔

اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے کہا کہ پابندی کے نفاذ کے بعد سے برطانیہ کی پولیس نے مظاہروں کے دوران کم از کم 200 افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں سے اکثر پرامن تھے۔

فلسطین ایکشن نے خود اسے کالعدم قرار دینے کی مذمت کی ہے کہ یہ آزادی اظہار پر حملہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں