''ذمے دار ممالک'' شامی مذاکرات کی حمایت کریں:سرگئی لاروف

ایران ''اہم کھلاڑی'' ہے اور وہ شامی تنازعے کے حل میں مدد دے سکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے تمام ذمے دار ممالک پر زوردیا ہے کہ وہ شام سے متعلق مجوزہ جنیوا امن کانفرنس کے مثبت نتائج کے حصول کے لیے کام کریں۔

سرگئی لاروف نے بدھ کو ایران کے دارالحکومت تہران میں وزیرخارجہ محمد جواد ظریف کے ساتھ مشترکہ نیوزکانفرنس میں کہا کہ ''تمام ذمے دار ممالک کو کچھ نا کچھ کرنا چاہیے تا کہ جنیوا2 کانفرنس کا مثبت نتیجہ برآمد ہوسکے''۔

انھوں نے کہا کہ ایران ایک ''اہم کھلاڑی'' ہے اور وہ شامی تنازعے کے حل میں مدد دے سکتا ہے۔اس کو جنیوا میں مدعو کیا جانا چاہیے۔اس موقع پر جواد ظریف نے کہا کہ ''ایران پیشگی شرائط کے بغیر جنیوا جانے کو تیار ہے لیکن شامی عوام ہی کو اپنا بحران طے کرنا چاہیے''۔

واضح رہے کہ شامی حزب اختلاف جنیوا امن کانفرنس سے قبل صدر بشارالاسد کی رخصتی کی یقین دہانی کرانے کا مطالبہ کر رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ بشارالاسد اقتدار چھوڑدیں اور ان کی جگہ ایک عبوری حکومت قائم کی جائے مگر اسد حکومت اس مطالبے کو مسترد کرچکی ہے اور وہ ایک سے زیادہ مرتبہ یہ کہہ چکی ہے کہ صدر کے مستقبل کے حوالے سے جنیوا میں ہرگز کوئی بھی بات چیت نہیں کی جائے گی اور اگر کوئی عبوری حکومت قائم ہوتی ہے تو اس کے سربراہ بشارالاسد ہی ہوں گے۔

نیوزکانفرنس میں جب جواد ظریف سے روس کی جانب سے ایران کو ایس 300 میزائل دفاعی نظام کی فروخت کے حوالے سے سوال کیا گیا کہ کیا اس کے متبادل پر بھی غور کیا جارہا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ہم ابھی تک ماسکو کے ساتھ سابقہ معاہدوں پر عمل درآمد پر اصرار کررہے ہیں۔البتہ اب اس مسئلے کا باہمی طور پر کوئی قابل قبول حل تلاش کرلیا جائے گا۔

یادرہے کہ روس نے 2007ء میں ایران کو پانچ جدید ایس 300میزائل دفاعی نظام فروخت کرنے کے لیے معاہدے پر دستخط کیے تھے لیکن 2010ء میں روس کے سابق صدر دمتری میدویدیف نے امریکا اور اسرائیل کے دباؤ میں آکر 80 ارب ڈالرز مالیت کے اس معاہدے کو منسوخ کردیا تھا۔

اس پر ایران نے جنیوا میں قائم ایک بین الاقوامی عدالت میں روس کے اسلحہ برآمد کرنے والے ادارے کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کردیا تھا۔روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف ایرانی قیادت کے ساتھ اس نظام کی فروخت کے حوالے سے بھی بات چیت کرنے والے تھے۔وہ منگل کی شام دوروزہ دورے پر تہران پہنچے تھے اور وہ وزیرخارجہ جواد ظریف سے بات چیت کے بعد ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کرنے والے تھے۔

وہ ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان 24 نومبر کو جنیوا میں طے شدہ عبوری جوہری سمجھوتے کے بعد یہ دورہ کررہے ہیں۔جنیوا سمجھوتے کے تحت ایران نے حساس جوہری سرگرمیوں کو منجمد کرنے سے اتفاق کیا ہے اور اس کے بدلے میں اس کے خلاف عاید کردہ اقتصادی پابندیوں میں نرمی کردی جائے گی۔

جواد ظریف نے بتایا کہ ایران اور روس دونوں اب حتمی سمجھوتے کو طے کرنے کے لیے مل کر کام کررہے ہیں۔واضح رہے کہ ایران کا بوشہر میں واقع واحد جوہری پاور پلانٹ روس نے تعمیر کیا تھا۔یہ 2011ء سے کام کررہا ہے اور ایک ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کررہا ہے۔ایران جوہری پاور پلانٹس سے بیس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے مزید 20 جوہری ری ایکٹر درکار ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں