.

بحرین نے جی سی سی کو خلیج یونین بنانے کی حمایت کردی

مجوزہ خلیج یونین کے قیام کے لیے ریاض میں جلد سربراہ اجلاس بلایا جائے:شاہ حمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحرین کے شاہ نے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی ) کو درجہ بڑھا کر خلیج یونین بنانے سے متعلق سعودی عرب کی تجویز کی حمایت کردی ہے۔

شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے مملکت کے قومی دن کے موقع پر منامہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ''بحرین خلیج یونین کے اعلامیے کی حمایت کے لیے مکمل عزم کے ساتھ تیار ہے۔ہم اس سلسلے میں ریاض میں ایک خصوصی سربراہ اجلاس بلانے کے منتظر ہیں تا کہ اس میں یونین کے قیام کا اعلان کیا جاسکے''۔

سعودی عرب نے 2011ء میں جی سی سی کو ترقی دے کر ایک رابطہ کونسل سے خلیج یونین بنانے کی تجویز پیش کی تھی اور بحرین نے تب سب سے پہلے اس کی حمایت کی تھی۔تاہم بعض ممالک کی جانب سے اس پر تحفظات کے پیش نظر اس پر غور مؤخر کردیا گیا تھا اور اب کویت میں منعقدہ تنظیم کے حالیہ اجلاس میں اس تجویز پر غور کیا گیا ہے۔

مگر اس اجلاس سے قبل ہی سلطنت آف اومان نے چھے خلیجی ریاستوں کی مجوزہ یونین میں شمولیت سے یکسر انکار کردیا ہے اور اس نے یہ فیصلہ ایران کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات کے پیش نظر کیا ہے۔وہ بیک وقت خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ساتھ اپنے مضبوط تعلق کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اور ایران کو ناراض بھی نہیں کرنا چاہتا ہے۔

اومان نے حال ہی میں ایک مرتبہ پھر جی سی سی کو یورپی یونین کے طرز پر خلیج یونین بنانے کی مخالفت کی ہے۔اومانی وزیرخارجہ یوسف بن علاوی نے گذشتہ ہفتے کے روز بحرین کے دارالحکومت منامہ میں منعقدہ سکیورٹی ڈائیلاگ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم خلیجی یونین کے خلاف ہیں''۔

اومان ایران کے ساتھ مستحکم تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ان دونوں ممالک کے درمیان 1970ء کے عشرے سے بہتر تعلقات چلے آرہے ہیں تب شاہ ایران کی کمان میں ایرانی فورسز اور برطانوی اتحادیوں نے اس خلیجی ریاست میں ظفار بغاوت کو فرو کرنے میں مدد دی تھی لیکن اومان ،ایران تعلقات کے اس پس منظر کے باوجود دوسری خلیجی ریاستیں جی سی سی کو یونین میں تبدیل کرنے کی حامی ہیں۔

سعودی عرب متعدد مرتبہ جی سی سی کی رکن ریاستوں کے درمیان زیادہ اتحاد پر زوردے چکا ہے اور وہ ایران کے خلاف ایک مشترکہ سکیورٹی ادارے کے قیام کا خواہاں ہے۔سعودی عرب کے نزدیک یہ سکیورٹی یونین نیٹو طرز کے اتحاد میں تبدیل ہوسکتی ہے اور خلیج میں ایک وسیع تر سکیورٹی معاہدے سے ایران کو تنظیم کے رکن ممالک میں مداخلت سے روکا جاسکے گا۔

خلیج تعاون کونسل میں سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات ،کویت ،قطر ،اومان اور بحرین شامل ہیں۔ان تمام ممالک کی کل آبادی قریباً چار کروڑ ستر لاکھ نفوس پر مشتمل ہے اور ان میں بھی قریباً نصف تعداد غیرملکی تارکین وطن کی ہے۔خلیجی ریاستوں کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے یہ تنظیم 1981ء میں قائم کی گئی تھی۔جی سی سی کے رکن ممالک دنیا کے خام تیل کے معلوم ذخائر کے 40 فی صد اور قدرتی گیس کے 25 فی صد ذخائر کےمالک ہیں۔

جی سی سی نے گذشتہ ہفتے کویت میں منعقدہ اپنے دوروزہ سربراہ اجلاس میں ایک مشترکہ فوجی کمان کے ڈھانچے کی منظوری دی ہے اور رکن ممالک کو درپیش سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ پولیس فورس کی تشکیل سے بھی اتفاق کیا تھا۔